18

موسمیاتی تبدیلی اور سردیوں میں انفیکشنز میں اضافہ

موسمیاتی تبدیلی کے اثرات اب صرف موسم کی حد تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ انسانی صحت کے لیے ایک سنجیدہ اور مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ بن چکے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ برسوں کے دوران سردیوں کے انداز میں آنے والی غیر معمولی اور غیر متوقع تبدیلیوں کے باعث مختلف قسم کی متعدی اور غیر متعدی بیماریوں میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ کبھی شدید سردی اور کبھی اچانک درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافہ انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں لوگ مختلف انفیکشنز کا آسانی سے شکار ہو رہے ہیں۔ماہرین صحت کے مطابق بدلتے ہوئے موسمی حالات کے باعث نزلہ، زکام، فلو، کھانسی، نمونیا، گلے کے انفیکشنز اور سانس کی بیماریوں کے کیسز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ خاص طور پر شہری علاقوں میں اسموگ اور فضائی آلودگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ سردیوں کے موسم میں دھند اور اسموگ کے طویل دورانیے کے باعث سانس کی بیماریاں شدت اختیار کر لیتی ہیں، جس سے دمہ، برونکائٹس اور الرجی کے مریض شدید مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد بڑھنے سے صحت کے نظام پر اضافی دبائو پڑ رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے نتیجے میں سردیوں کا دورانیہ غیر متوازن ہو چکا ہے۔ بعض علاقوں میں سردی معمول سے کم ہو جاتی ہے جبکہ بعض جگہوں پر اچانک شدید سردی پڑنے لگتی ہے۔ درجہ حرارت میں اس اچانک تبدیلی کے باعث انسانی جسم کو ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے میں دشواری پیش آتی ہے، جس سے قوتِ مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاص طور پر بچے، بزرگ افراد اور وہ لوگ جن کا مدافعتی نظام پہلے ہی کمزور ہوتا ہے، زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔دیہی اور کم آمدنی والے علاقوں میں صورتحال مزید تشویشناک ہے، جہاں ناقص رہائشی سہولیات، مناسب گرم لباس کی کمی، ایندھن کے دھوئیں، لکڑی اور کوئلے کے استعمال سے پیدا ہونے والی آلودگی بیماریوں میں اضافے کا باعث بن رہی ہے۔ گھروں کے اندر دھواں بھر جانے سے خواتین اور بچے سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں، جبکہ مناسب طبی سہولیات کی عدم دستیابی مسائل کو مزید بڑھا رہی ہے۔ماہرین صحت اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے عوامی آگاہی نہایت ضروری ہے۔ سردیوں میں مناسب اور گرم لباس کا استعمال، صاف ستھرا ماحول، متوازن اور غذائیت سے بھرپور غذا، وٹامنز اور معدنیات کا مناسب استعمال، ویکسینیشن اور بروقت طبی معائنہ انفیکشنز سے بچا میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ شہریوں کو اسموگ سے بچا کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی بھی ضرورت ہے۔حکومت پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ بنیادی صحت کے مراکز کو مضبوط بنائے، دیہی علاقوں میں طبی سہولیات فراہم کرے اور موسمیاتی تبدیلی کے صحت پر پڑنے والے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے مثر پالیسی سازی کرے۔ فضائی آلودگی کے کنٹرول، صاف توانائی کے فروغ اور ماحولیاتی تحفظ کے اقدامات کے بغیر اس مسئلے پر قابو پانا ممکن نہیں۔یہ حقیقت اب نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ موسمیاتی تبدیلی ایک خاموش مگر خطرناک مسئلہ بن چکی ہے جو انسانی صحت کو مسلسل متاثر کر رہی ہے۔ اگر اس پر فوری اور سنجیدہ توجہ نہ دی گئی تو آنے والے برسوں میں سردیوں کے دوران بیماریوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے نہ صرف عوام کی صحت متاثر ہو گی بلکہ ملک کا صحت کا نظام بھی شدید دبائو کا شکار ہو جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں