129

مولانا محمد ادریس چنیوٹی مرحوم ‘ ایک عہد ساز شخصیت

تحریر…قاری حق نواز رحیمی
سفیر ختم نبوت مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمة اللہ علیہ کے بیٹے مولانا محمد ادریس چنیوٹی (ممبر صوبائی اسمبلی مولانا محمد الیاس چنیوٹی کے چھوٹے بھائی) شوگر کی مرض میں مبتلا تھے، لیکن وہ انتہائی متحرک شخصیت تھے اور مختلف مذہبی و سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہتے تھے ان کی وفات کی خبر ان کے چاہنے والوں پر بجلی کی طرح گری اور اس خبر نے لاکھوں لوگوں کو سوگوار کر دیا۔ مولانا محمد ادریس چنیوٹی مرحوم بہت بڑے عالم دین تھے اور اس کیساتھ ساتھ سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے۔ تحفظ عقیدہ ختم نبوت ہو یا دفاع صحابہ، دین کے ہر کام میں ہر پلیٹ فارم پر انکی آواز گونجتی ہوئی سنائی دیتی، بطور سیاسی شخصیت اپنے حلقہ کے عوام کو ہمہ وقت دستیاب ہوتے، تھانے کچہری سے متعلقہ کوئی کام ہو یا محکمہ تعلیم و صحت سے متعلق، واپڈا دفتر سے کسی سائل کی دادرسی درکار ہو یا اکاؤنٹ آفس سے، غرضیکہ کسی بھی سرکاری دفتر میں عام آدمی کا کوئی کام ہوتا تو مولانا ادریس چنیوٹی خود اس کے ساتھ وہاں جا کر اس کا مسئلہ حل کروانے میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتے، انہوں نے اپنے بڑے بھائی مولانا محمد الیاس چنیوٹی ممبر صوبائی اسمبلی کی تمام مقامی ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر اٹھا رکھی تھیں اور نہ صرف اپنے ووٹرز بلکہ حلقہ کے تمام لوگوں کی خدمت کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ انتہائی سادہ مزاج اور عام آدمی کی سہل پہنچ میں رہتے تھے، موٹر سائیکل پر سوار کبھی کسی کے ساتھ اور کبھی کسی کے ساتھ، راستے میں ہی کوئی شخص روک لیتا اور اپنے مسائل بیان کرنے لگ جاتا تو توجہ کے ساتھ سنتے اس کا حل نکالتے۔ اگر صرف رقعہ لکھنے سے مسئلہ حل ہو سکتا تو فوری لکھ دیتے،فون کال کرنے سے کام ہو سکتا تو وہ کردیتے اور اگر ان کا بذات خود جانا ضروری ہوتا وہیں کھڑے کھڑے وقت طے کر لیا جاتا سائل کو ساتھ لے کر متعلقہ مقام پر پہنچ جاتے۔
حضرت کے چہرے کو دیکھ کر انکے والد محترم مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ تعالیٰ کی تصویر نظر آتی تھی۔ انتہا درجے کے سادہ اور عوامی مزاج کے آدمی تھے حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے ساتھ بیٹھے یا کھڑے کھڑے باتیں کرتا کوئی بھی معمولی سے معمولی آدمی بھی خود کو چھوٹا محسوس نہیں کرتا تھا۔ سیاسی سرگرمیوں نے ان کو ان کے اصل مشن یعنی خدمت دین سے غافل نہ کیا تھا بلکہ دینی خد مات ان کا اوڑھنا اور بچھونا تھا۔ مرحوم عرصہ دراز سے جامع مسجد امیر حمزہ و مدرسہ تحفیظ القرآن سیٹلا ئٹ ٹاؤن چنیوٹ میں خطابت کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور مدرسہ کی سرپرستی فرما رہے تھے۔ ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد اور جامعہ عربیہ ا ور اسکے زیر اہتمام چلنے والی تمام شاخوں میں گاہے بگاہے جا کر مدرسین کی حوصلہ افزائی کرتے رہتے اور جامعہ کے معاملات کو خود دیکھتے تھے بیماری کے باوجود دین کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے مولانا کی موت عالم اسلام کے لیے بہت بڑا سانحہ ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ ان کی وفات سے جہاں ان کے خاندان بالخصوص مولانا محمد الیاس چنیوٹی کا بہت نقصان ہوا ہے وہیں چنیوٹ کی عوام ایک شفیق، ہمدرد، بے لوث اور مخلص سیاستدان سے محروم ہو گئی ہے۔ جو واقعتاً ایک عظیم اور نیک شخص تھے جنہوں نے اپنی زندگی دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کردی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی ختم نبوت کے مقصد کے لیے انتھک محنت کرتے ہوئے گزاری جو ان کے غیر متزلزل ایمان اور عزم کا ثبوت ہے۔ مولانا ہمدردی، مہربانی اور سخاوت کی ایک روشن مثال تھے، جو اپنے پیچھے اچھے کاموں کی میراث چھوڑ گئے اور ان سب کی زندگیوں پر گہرا اثر چھوڑا جو انہیں جانتے تھے۔ ان کی بے لوثی، عاجزی، اور اپنے عقائد سے لگن نے بے شمار افراد کو متاثر کیا، اور ان کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی اور تحریک کا باعث بنے گی۔مولانا کی وفات سے تاریخ کا ایک روشن باب بند ہو گیا۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں ابدی سکون عطا فرمائے اور ان کے چاہنے والوں کو اس مشکل گھڑی میں ہمت اور حوصلہ عطا فرمائے۔ اللہ ان کے گناہوں کو معاف فرمائے۔ آمین۔ مرحوم کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں