مکئی کی جینیاتی تبدیلی کیلئے پالیسی سفارشات مرتب

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) زرعی یونیورسٹی فیصل آباد مکئی کی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ(جی ایم) اور نان جی ایم کے حوالے سے پیداوار میں اضافے کیلئے پالیسی سفارشات مرتب کر رہی ہے تاکہ زیادہ پیداوار کو یقینی بنا کر غدائی استحکام کے اہداف حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کاشتکاروں کی معاشی حالت بھی بہتر بنائی جا سکے۔ اس سلسلے میں شعبہ پلانٹ بریڈنگ اینڈ جینیٹکس(پی بی جی) کی جانب سے ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا گیا جس کی صدارت زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کی۔ اجلاس میں نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرپرسن ڈاکٹر آصف علی، ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ، چیئرمین شعبہ پی بی جی پروفیسر ڈاکٹر عظیم اقبال، چیئر ایگریکلچر پالیسی پروفیسر ڈاکٹر آصف کامران، ڈاکٹر محمد اسلم، رفحان میز سے ڈاکٹر خالد عزیز، چوہدری آصف علی اور دیگر نے خطاب کیا۔ ڈاکٹر ذوالفقار علی نے کہا کہ مکئی، گندم اور چاول کے بعد ملک کی تیسری سب سے اہم فصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ایسی ٹیکنالوجیز کو اپنانا ہوگا جو پیداوار میں اضافہ کریں اور موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے بتایا کہ مالی سال 2025ء میں پاکستان میں مکئی کی کاشت کا تخمینہ 1.44 ملین ہیکٹر ہے جبکہ اس کی پیداوار 8.24 ملین ٹن رہی جو کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔ نیشنل سیڈ ڈویلپمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے چیئرپرسن ڈاکٹر آصف علی نے مکئی کے بارے میں سفارشات مرتب کرنے پر یونیورسٹی کے اقدامات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ زرعی چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہمیں ایسی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہو گا جو عہدحاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو۔ ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے کہا کہ یہ فصل مارکیٹ کے نرخوں اور موسمیاتی تغیرات کے لیے حساس ہے، جس کے لیے پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لیے ہدف پر مبنی پالیسی سفارشات وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں