82

میاں نواز شریف کی توجہ کیلئے…

موجودہ وقت میں مسلم لیگ (ن) کی وفاق اور مرکز میں حکومتیں ہونے کے باوجود لیگی کارکن بددل نظر آتے ہیں، فیصل آباد سمیت کئی علاقوں کے لیگی کارکنوں میں مایوسی اور اختلافات کی خبریں بھی سننے کو ملتی رہتی ہیں، ان حالات کی بڑی وجہ یہ ہے کہ معاملات پر گہری نظر رکھنے والے میاں محمد نواز شریف اب پنجاب کے معاملات تک محدود ہو چکے ہیں، اپنی بیٹی مریم نواز کو بحیثیت وزیراعلیٰ پنجاب کامیاب کروانا ان کا اوّلین مقصد نظر آنے لگا ہے، پنجاب کی بیوروکریسی کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں شرکت کے بعد اب میاں محمد نواز شریف نے تندور کا اچانک دورہ کر کے روٹی کی قیمت چیک کی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اپنی بیٹی مریم نواز کی ہر معاملہ میں رہنمائی کرنا چاہتے ہیں، محترمہ مریم نواز قابل اور ذہین شخصیت کی مالک ہیں اور سونے پر سہاگہ کہ انہیں اپنے والد محترم کی سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہے، میاں محمد نواز شریف کو پاکستان کی سیاست میں جو مقام حاصل ہے، اس سے ہر شخص آگاہ ہے وہ خداداد صلاحیتوں کے مالک مقبول سیاسی لیڈر ہیں، اپنے دور وزارت عظمیٰ میں انہوں نے ملک وقوم کے لیے جو کارنامے سرانجام دیئے ان کا ہر خاص وعام معترف ہے، قبل ازیں وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے بھی وہ عوامی خدمت کی شاندار تاریخ رقم کر چکے تھے، وزیراعظم کے منصب پر فائز ہو کر انہوں نے نجی شعبہ کے تعاون سے ملکی صنعت کو مضبوط بنایا، غازی بروتھا اور گوادر بندرگاہ جیسے منصوبے شروع کئے، سندھ کے بے زمین ہاریوں میں زمینیں تقسیم کیں، وسطی ایشیائی مسلم ممالک سے تعلقات کو مضبوط بنایا گیا، اقتصادی تعاون تنظیم کو ترقی دی گئی ہے، افغانستان کے بحرانوں کو حل کروانے میں مدد دی گئی اور مختلف افغان دھڑوں نے ”معاہدہ اسلام آباد” پر دستخط کئے، ان کے دور حکومت کی اہم خوبی معاشی ترقی کا حصول تھا، میاں محمد نواز شریف تین بار وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے اور انہوں نے ہر بار ملک وقوم کی خدمت کا حق ادا کر دیا، ملک کو ایٹمی قوت بنانا بھی ان کا وہ تاریخ ساز کارنامہ ہے جسے قوم ہمیشہ یاد رکھے گی، میاں محمد نواز شریف کو عالمی برادری اور دوست ممالک میں بھی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اس لئے انہیں چاہئے کہ محض پنجاب کے معاملات تک محدود نہ ہوں بلکہ وہ ملک بھر میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو مضبوط اور کارکنوں کو فعال بنانے پر توجہ دیں، بلاشبہ! کسی بھی سیاسی جماعت کا بنیادی اثاثہ اس کے سرگرم کارکن ہی ہوتے ہیں اور جو سیاسی جماعتیں اپنے کارکنوں کی تربیت کا معقول انتظام کرتی ہے انہیں عوامی مقبولیت حاصل ہوتی ہے، مگر پاکستان میں سیاسی جماعتوں کی غالب اکثریت اپنے کارکنوں کی تربیت کیلئے تیار نہیں ہے، ایسا نہیں کہ سیاسی جماعتوں کے پاس وسائل کی کمی ہے، وسائل وافر ہیں، لیکن سیاسی قیادتیں اپنے کارکنوں کو فعال بنانے پر زیادہ توجہ نہیں دے رہی ہیں، میاں محمد نواز شریف مسلم لیگ (ن) کے سربراہ بنے تو انہوں نے کارکنوں کی سیاسی تربیت پر مکمل توجہ دی، ان کی جدوجہد سے مسلم لیگ (ن) ملک کی سب سے بڑی سیاسی قوت بنی اور آج بھی ملک بھر کے لیگی کارکنوں کو ان کی قیادت کی اشد ضرورت ہے مگر سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ میاں محمد نواز شریف کا کردار اپنی بیٹی کی رہنمائی اور سیاسی گرومنگ کا ہے، لیکن یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پوری قوم کے لیے ان کا کردار بڑی اہمیت کا حامل ہے اور انہیں پنجاب سمیت ملک بھر میں تعمیر وترقی’ عوامی مسائل کے حل اور لیگی کارکنوں کو فعال کرنے پر مکمل توجہ دینی چاہیے، یہ بات خوش آئند ہے کہ میاں محمد نواز شریف نے پارٹی کو ازسرنو متحرک کرنے کیلئے سینئر رہنمائوں سے مشاورت شروع کر دی ہے، لیگی قائد کو حکومتی اور پارٹی عہدے علیحدہ کرنے کی تجویز دی گئی، میاں محمد نواز شریف سے کہاگیا ہے کہ وہ خودپارٹی صدارت سنبھالیں اورمسلم لیگ(ن)کے عہدیداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیکرانہیں برقراررکھیں یا پھرنئے عہدیداروں کوذمہ داریاں سونپی جائیں،میاں محمد نوازشریف عنقریب ڈویژنل اورضلعی سطح پرپارٹی عہدیداروں سے ملاقاتیں کرینگے جس کے بعد اکثریتی رائے کو دیکھتے ہوئے پارٹی کی جنرل کونسل کااجلاس بلانے یا نہ بلانے کا فیصلہ ہوگا،سننے میں آیا ہے کہ میاں محمد نوازشریف مرکز کی بجائے پنجاب پرفوکس کرنے پرزیادہ زور دے رہے ہیں اوران کا کہنا ہے کہ ہماری اصل حکومت پنجاب ہی میں ہے، مرکز کا معاملہ وزیراعظم میاں محمد شہبازشریف اور اتحادی جماعتوں کے قائدین دیکھیں ، میاں محمد نوازشریف کوچاہیے کہ ملکی صورتحال کے پیش نظرقومی سطح پر اپنابھرپورکردار بھی ادا کریں،فیصل آباد ملک کا تیسرابڑا شہرہے اوراسے مسلم لیگ(ن)کا مضبوط ترین قلعہ کہا جاتا ہے مگرعام انتخابات میں اس کے نامزد امیدواروں کا یہاں شکست سے دوچارہونا پارٹی کارکنوں میں مایوسی کا باعث بنا ہے لہذا ضرورت اس امرکی ہے کہ پارٹی قیادت انہیں تنہا نہ چھوڑے،الیکشن ہارنے والے پارٹی ٹکٹ ہولڈرزکوکہیں نہ کہیں ایڈجسٹ کرنا چاہیے،لیگی کارکنوں کا کہنا ہے کہ انہیں وہ اہمیت نہیں دی جارہی جوماضی میں لیگی دورحکومت کے دوران ملتی تھی، جس کے نتیجہ میں لیگی کارکنوں کا مورال گررہا ہے،الیکشن کے بعد یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ لیگی کارکنوں کو کہیں نہ کہیں ایڈجسٹ کیا جائیگا مگر ابھی تک یہ وعدہ پورا نہیں ہو سکا ان حالات میں میاں محمد نوازشریف کا ورکرز کنونشن کروانے کا فیصلہ خوش آئند ہے، امید ہے کہ وہ کارکنوں سے ان کے مسائل اوران کی رائے پوچھیں گے اورحقائق سے آگاہی کرکے جوفیصلے کئے جائیں گے ان میں پارٹی کارکنوں کی رائے کومقدم رکھا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں