وقت گزرنے کا پتہ بھی نہیں چلتا مگر وقت کی رفتار جتنی مرضی تیز ہو جائے حالات جیسے مرضی ہو جائیں مگر جو زخم قلب وجاں اور روح پر لگے ہوں وہ ہمیشہ تروتازہ رہتے ہیں’ خاص طور پر والدین کی جدائی کا زخم کبھی بھی نہیں بھرتا، بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ زخم گہرے سے گہرا ہوتا چلا جاتا ہے، آج 3فروری 2025ء کو سوموار کا دن ہے، ٹھیک گیارہ سال قبل بھی اسی روز 3فروری کو سوموار کا ہی دن تھا جس روز میری والدہ ماجدہ مجھے چھوڑ کر اﷲ رب العزت کے پاس چلی گئیں’ میری ماں انتہائی صابرہ خاتون تھیں جنہوں نے اپنی زندگی میں بے شمار غم دیکھے انتہائی کٹھن مراحل طے کئے، خاص طور پر اپنے 4جواں سال بیٹوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے کفن زیب تن کر کے موت کی وادی میں جاتے دیکھا، میرے بڑے بھائی ملک محمد عاشق المعروف نمبردار کی موت نے میری ماں کی حالت پاگلوں جیسی کر دی تھی، میرا بڑا بھائی جوانی کے عین شباب میں اچانک داغ مفارقت دے گیا، اس کی لاہور کے علاقے کاچھو پورہ میں منگنی ہوئی تھی، گھر میں شادی کی تیاریاں تھیں کہ 1978ء کو وہ اچانک طبیعت خراب ہونے پر صرف چند روز میاں ٹرسٹ ہسپتال میں زیرعلاج رہا اور اپنے خالق حقیقی سے جاملا، جوان اولاد کی موت کا غم والدین کیلئے کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا، مگر پھر بھی میری ماں نے انتہائی صبر وتحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے باقی بچوں کی دیکھ بھال اور پرورش کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی’ میں اپنے بھائیوں میں سب سے چھوٹے نمبر پر تھا، میرے ساتھ میرے والدین کا پیار محبت حد سے زیادہ تھا، تقریباً بارہ سال قبل اپنے آبائی علاقے عبداﷲ پور سے رخت سفر باندھا اور اپنے بچوں اور اپنی والدہ کیساتھ چھوٹی ڈی گرائونڈ میں رہائش پذیر ہو گیا، اس گھر میں میری والدہ تقریباً 11 ماہ تک ہمارے ساتھ رہیں اور پھر 3فروری 2014ء بروز سوموار کو اپنے خالق حقیقی سے جاملیں۔ آج ان کی گیارہویں برسی پر میرے دل کی عجیب کیفیت ہے اور آنکھیں اشکبار ہیں، ماہ فروری کے آغاز سے ہی ہر سال میری ماں کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں اور پھر کسی اپنے کے کندھے پر سر رکھ کر رونے کی بجائے میں اپنی ماں کی قبر پر پہنچ کر فاتحہ خوانی کر کے اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتا ہوں، ماں دنیا میں ایک ایسا رشتہ ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں، ماں سے زیادہ اولاد سے محبت کرنے والا کوئی نہیں، ماں اپنے بچوں کے لیے جیتی ہے اور بچے اس کی سب سے بڑی دولت ہوتے ہیں، ماں کی بڑی شان ہے اور ماں کے قدموں میں جنت رکھی گئی ہے۔ ماں کی اولاد سے والہانہ محبت کا ہر شخص قائل ہے، میری عظیم ماں نے میری خوشی کو اپنی جان کی طرح عزیز جانا اور انہوں نے زندگی بھر مجھ سے اپنی محبت کا اظہار فرمایا، میری عظیم ماں نے میری تعلیم وتربیت پر بھی توجہ دی جس سے میری شخصیت مکمل اور مجھے رشد وہدایت نصیب ہوئی، بلاشبہ! ماں آرام وسکون جان بھی ہے اور عظمت کا نشان بھی، ماں محبت کا جہان اور عطیہ رحمن بھی ہے۔ بحرمحبت کی گہرائی میں ہر چیز کو سمیٹے ہوئے احساس کو ماں کہتے ہیں۔ اپنی ماں میں مجھے ہمیشہ چاند کی چاندنی، شام کی شفق، سحر کی شبنم، دھنک کے رنگ اور ستاروں کی چمک نظر آئی، کائنات کے سب رنگ ماں کی محبت میں چھپے ہوئے ہیں۔ میں نے جب بھی اپنے دوستوں سے ماں کے موضوع پر گفتگو کی تو سبھی دوست اپنی ماں کی محبت کے سحر میں شاداں نظر آئے۔ ماں سے محبت وعقیدت کا اظہار اور ان کے قدموں کا بوسہ لینا مقدر والوں کو ہی نصیب ہوتا ہے اور مجھے بے حد خوشی ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے میرا شمار بھی ایسے مقدر والوں میں کیا ہے، ماں خداوند تعالیٰ کا ایسا تحفہ ہے جو کائنات میں سب سے نرالا ہے۔ ماں وہ عظیم ہستی ہے جس کی کوکھ سے بڑے بڑے عظیم انسانوں نے جنم لیا، اس کی عظمت کو احاطہ تحریر میں لانا بہت مشکل ہے۔ میں نے اس سلسلہ میں دنیا کی نامور ادبی شخصیات کو سرجھکا کر نذرانہ عقیدت پیش کرنے کے بعد بھی اپنا کم مائیگی کا اظہار کرتے پایا ہے’ ماں کی شان ایک ختم نہ ہونیوالی عظیم حقیقت ہے۔ اﷲ تعالیٰ نے ماں کو اولاد کیلئے مہربان بنایا اور خالق کائنات سارے لوگوں پر رحم فرماتا ہے چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ اس کی ایک صفت رحیم بھی ہے یعنی وہ اپنے بندوں پر مہربان ہے، اسی سبب ہم دیکھتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ دنیا میں کافروں کو بھی روزی’ روٹی اور دنیاوی سہولت میسر کرتا ہے، بے شک! اﷲ تعالیٰ اپنے بندوں پر مہربان ہے مگر وہ اپنے ہر بندے سے محبت نہیں کرتا، محبت اور رحم میں فرق ہے، اﷲ تعالیٰ ایمان والوں سے، حق پرستوں سے، صادقین سے، مطیع وفرمانبرداروں سے محبت کرتا ہے مگر ظالموں اور کافروں سے محبت نہیں کرتا، اﷲ تعالیٰ کا فرمان ہے، ترجمہ: اے نبی! آپ کہہ دیں کہ اﷲ اور رسول کے رسولۖ کی اطاعت کریں، اگر وہ اعتراض کرے تو یقینا اﷲ کافروں کو پسند نہیں کرتا، اﷲ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور کائنات میں لاکھوں نعمتیں اس کے لیے بنائیں، انسان پیدائش سے لیکر موت تک اﷲ تعالیٰ کی بے شمار نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے، اورہمیں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکرادا کرنا چاہیے’حضور نبی کریم حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے دنیاوآخرت کی عافیت مانگا کرو’ماں باپ کی خدمت کرکے ان کی دعائیں حاصل کرنا بھی بڑی خوش بختی ہے’ ماں باپ اﷲ رب العزت کی عظیم نعمت ہیں، انسان جو کچھ بھی ہے اپنے والدین کی وجہ سے ہے جو اپنی ولاد کی تربیت اور پرورش کے لیے اپنی جان تک لڑا دیتے ہیں اور اپنی ساری زندگی اولاد کیلئے راحت اور آسانی پیدا کرنے کیلئے کوشاں رہتے ہیں، ہمیں والدین کی دعائیں لیتے رہنا چاہیے تاکہ دنیا وآخرت میں فلاح ہمارا مقدر بنے، میری والدہ مجھے دُعائیں دیتے ہوئے کہتی تھی کہ رکھ رکھ بھُلیں (کسی چیز کی کمی نہ ہو ) ۔۔۔کھیسہ پُر روے (جیب ہمیشہ بھری رہے) ۔ ۔۔نیت صاف تے ستے ایں خیراں۔۔۔۔
مجھے اپنی ماں سے جو محبت وپیار ملا وہ دم آخر بھی یاد رہے گا اور میری ماں کی دعائیں مجھے کامیابیوں سے ہمکنار کرتی رہیں گی۔ دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ اپنے پیارے حبیب حضرت محمد مصطفی صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے طفیل میرے والدین کی قبروں کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، آمین۔



