میری ناکامی پر آٹو رکشہ ڈرائیور کا بیٹا کہہ کر پکارا گیا۔ فاسٹ بائولر محمد سراج

ممبئی (سپورٹس نیوز) بھارتی ٹیم کے مسلمان فاسٹ بولر محمد سراج نے سوشل میڈیا پر ہونیوالی تنقید پر اپنے ردعمل کا اظہار کردیا۔فوٹو اینڈ ویڈیو شیئرنگ ایپ انسٹاگرام پر اپنے 31 سالہ بھارتی فاسٹ بولر محمد سراج نے اپنے والدین کیساتھ تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “میرے والد کا آٹو رکشہ چلانا کوئی توہین نہیں، بلکہ ان کی محنت اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ میں آج اس مقام پر ہوں”۔بھارتی ٹیسٹ کرکٹر نے اپنے والد ‘محمد غوث’ کی جانب سے ان کے کیرئیر کے دوران مالی مدد کو یاد کیااور بتایا کہ “میرے والد مجھے روزانہ 60 روپے دیتے تھے تاکہ میں حیدرآباد کے اپل اسٹیڈیم میں کرکٹ کی تربیت حاصل کرسکوں یہ رقم اس وقت بہت تھی، مگر ان کی قربانیوں نے میرے خوابوں کی تکمیل کی”۔انہوں نے کہا کہ “آئی پی ایل سیزن 2019 میں اپنی کارکردگی پر تنقید کا سامنا کیا تو لوگوں نے میری خراب کارکردگی پر طنزیہ جملے کستے ہوئے کہا کہ میں کرکٹ چھوڑ کر اپنے والد کے ساتھ آٹو رکشہ چلاں، یہ باتیں دل کو تکلیف پہنچاتی ہیں لیکن میں نے ان سب کو نظرانداز کیا اور اپنی محنت جاری رکھی”۔محمد سراج نے اپنے جذباتی پیغام میں لکھا کہ “میری کیپ/جرسی اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں کے کہنے سے فرق نہیں پڑا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں