نادرا آفس صفدر آباد کے باہر ٹریفک کا بند رہنا معمول

صفدرآباد(نامہ نگار)نادرا آفس صفدرآباد کے باہر مین روڈ پر ٹریفک کا بندرہنا معمول بن گیا ۔ ہسپتال ،نیشنل بنک ،جاوید مجید مارکی اور بٹر مارکیٹ تک یہی صورتحال رہتی ہے ،لوگوں کا پیدل گزرنا بھی مشکل ہو گیا۔موٹر سائیکلوں کی بھرمار نے منظر ہی تبدیل کر دیا ،کوئی ادارہ ایسا نہیں جو عوام کو مشکلات سے نکال باہر کرنے کی پلاننگ کر سکتا ہو ،اس حمام میں سب ننگے ہیں ،قابل افراد کی کمی ،نااہل اور نالائق لوگوں کی اعلیٰ عہدوں پر تعیناتی نے عوام کی زندگی کو یکسر موڑکر رکھ دیا ۔عوام کس کے پاس جائیں،کس سے اپنے معاملات کی درستگی کا رونا روئیں؟حکومت نام کی کوئی چیز ہوتی ہے جو کہ صفدرآباد میںنایاب ہے۔عوام نے ڈیلی بزنس رپورٹ کے نمائندہ سے اپنی ملاقات میں دلوں کی بھڑاس نکال کر رکھ دی ۔لوگ محکموں کے افسروں کو کوستے رہے کیونکہ اگر افسر لائق ہو گا تو عملہ ٹھیک کام کرے گا۔یہاں تو تانی کی تانی ہی گڑ بڑ ہے ۔عجیب زمانہ آگیا عوام ٹیکس پہ ٹیکس دیں اور عیاشیاں افسران کریں ۔اتنی بھاری تنخواہیں لے کر بھی کام نہیں کرتے۔لوگ دفتروں میں آتے ہین اور ذلیل ہو کر گھروںکو جاتے ہیں۔ہسپتال کا بھی یہی حال ہے کسی کو دوائی ملتی ہو گی اورکسی کو جھڑکیاں ۔ہسپتال میں بھی ٹیکس لگا ہوا ہے مریض جگا تیکس دے دے کر تھک گئے لیکن کسی نے دھیان ہی نہیں دیا ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں