ناقص پالیسیوں سے سرکاری کالجز مشکلات کا شکار

لاہور (بیوروچیف) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے پنجاب آن دی موو پروگرام کے تحت فراہم کی جانے والی بسیں ناقص پالیسیوں کے باعث سرکاری کالجز، بالخصوص خواتین کالجز کے لیے پریشا نی کا سبب بننے لگی ہیں۔ ذرائع کے مطابق خواتین کالجز کو دی گئی 25بسیں گزشتہ چار ماہ سے ڈرائیور، کنڈیکٹر اور دیگر ضروری عملہ نہ ہونے کے باعث سڑکوں پر نہیں آ سکیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت صوبہ بھر کے 24 خواتین کالجز کو ٹرانسپورٹ سہولت سے محرومی کے پیش نظر ستمبر میں بسیں فراہم کی گئی تھیں، تاہم بسوں کے ساتھ ڈرائیور، کنڈیکٹر اور دیگر لازمی سٹاف فراہم نہیں کیا گیا۔ بیشتر کالجز کے پاس پہلے سے بھی ٹرانسپورٹ سٹاف موجود نہیں تھا، جس کے باعث بسیں غیر فعال ہو کر رہ گئی ہیں۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب کالجز کے لیے نئے سٹاف کی بھرتیوں پر پابندی عائد کر دی گئی۔ اس پابندی کے بعد بعض کالجز نے مجبوری کے تحت پرائیویٹ سٹاف بھرتی کرنے کا عمل شروع کیا، تاہم فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث کئی کالجز تاحال ٹرانسپورٹ سٹاف کی بھرتی نہیں کر سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں