بغداد (مانیٹرنگ ڈیسک) عراق کی پارلیمنٹ نے پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے نزار آمیدی کو ملک کا چھٹا صدر منتخب کرلیا۔غیر ملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق پیٹریاٹک یونین آف کردستان کے امیدوار نزار آمیدی نے عراقی پارلیمنٹ میں 249میں سے 227ووٹ لے کر صدارتی انتخاب میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرلی اور 2003سے شروع ہونے والے حکومتی نظام میں ملک کے چھٹے صدر منتخب ہو گئے۔ عراق کے سابق صدر عبداللطیف راشد کی سبکدوشی کے بعد منتخب ہونے والے نئے صدر نزار آمیدی نے پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے دوسرے مرحلے میں کامیابی حاصل کرلی جبکہ پہلے مرحلے میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں ناکامی ہوئی تھی، صدارتی انتخاب کے لیے عراقی پارلیمنٹ میں پہلا مرحلہ 29دسمبر کو منعقد ہوا تھا۔نزار آمیدی نے رن آف الیکشن میں مخالف امیدوار مثنا امین پر 15 ووٹ کی برتری سے کامیابی سمیٹ لی اور 7 ووٹ مسترد قرار دیے گئے، پہلے مرحلے میں پارلیمنٹ کے 329 میں سے 252 ارکان نے ووٹنگ میں حصہ لیا تھا۔پارلیمنٹ میں کامیابی کے اعلان کے بعد نئے صدر کو آئینی حلف اٹھانے کے لیے دعوت دی گئی۔عراقی آئین کے تحت صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں کامیابی کے لیے دو تہائی اکثریت (329میں سے 220) درکار ہوتی ہے، مطلوبہ ووٹ حاصل کرنے میں ناکامی کی صورت میں انتخاب دوسرے مرحلے میں چلا جاتا ہے جہاں 165ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ دوسرے مرحلے میں دو امیدواروں کے درمیان اکثریت کی بنیاد مقابلہ ہوا اور سادہ اکثریت کی بنیاد پر کامیابی کا اعلان کیا گیا۔یاد رہے کہ عراق کی پارلیمنٹ نے مرکزی کردش پارٹی کردستان ڈیموکریٹک پارٹی (کے ڈی پی) اور پی یو کے کے درمیان صدارتی امیدوار کے حوالے سے عدم اتفاق کے باعث رواں برس فروری میں دوسری مرتبہ صدارتی انتخاب ملتوی کردیا تھا۔سیاسی جماعتوں کے درمیان پاور شیئرنگ نظام کے تحت صدارت کرد امیدواروں کے لیے ریزرو ہے اور اس کے لیے کے ڈی پی اور پی یوکے کا مقابلہ تھا۔آئین کے مطابق پارلیمنٹ کی بڑی جماعت کے نامزد صدر انتخاب کے دن کے بعد 15 روز کے اندر وزرا کی کونسل تشکیل دے گا۔




