1

نزلے سے متاثرہ افراد پر نئی تحقیق

لاہور ( بیو رو چیف )سائنسدانوں نے یہ جاننے میں اہم پیش رفت کر لی ہے کہ کچھ افراد نزلے سے بری طرح متاثر کیوں ہوتے ہیں جبکہ کچھ کو محض ہلکی سی چھینک پر ہی گزارا ہو جاتا ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق اس فرق کی اصل وجہ ناک کی اندرونی جھلی کا فوری دفاعی ردِعمل ہے، جو وائرس کو ابتدا ہی میں روک سکتا ہے۔یہ تحقیق سائنسی جریدے Cell Press Blue میں شائع ہوئی، جس میں بتایا گیا ہے کہ ناک کے خلیے رائنو وائرس (جو عام نزلے کی سب سے بڑی وجہ ہے) کے خلاف جسم کی پہلی دفاعی لائن کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر یہ خلیے وائرس کے داخل ہوتے ہی تیزی سے اینٹی وائرل ردِعمل شروع کر دیں تو بیماری پھیلنے سے پہلے ہی قابو میں آ سکتی ہے۔تحقیق کے مطابق اس ابتدائی دفاع کی قیادت انٹرفیرون نامی پروٹین کرتے ہیں، جو متاثرہ خلیوں کے ساتھ ساتھ آس پاس کے صحت مند خلیوں کو بھی وائرس کے خلاف متحرک کر دیتے ہیں۔اگر یہ ردِعمل فورا شروع ہو جائے تو وائرس محدود رہتا ہے، لیکن اگر اس میں تاخیر ہو جائے تو وائرس تیزی سے پھیلتا ہے، جس کے نتیجے میں سوزش، زیادہ بلغم اور سانس کی دشواریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ییل اسکول آف میڈیسن کے سائنسدانوں نے تحقیق کے لیے انسانی ناک کے اسٹیم سیلز سے لیبارٹری میں ناک کی جھلی جیسا ایک ماڈل تیار کیا، جسے چار ہفتے تک ہوا کے سامنے رکھا گیا تاکہ یہ قدرتی بافتوں کی طرح نشوونما پا سکے۔ اس ماڈل میں بلغم بنانے والے خلیے اور بال نما خلیے بھی شامل تھے، جو ناک اور پھیپھڑوں کو صاف رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔جب محققین نے ان سینسرز کو بلاک کیا جو وائرس کو پہچانتے ہیں، تو رائنو وائرس نے تیزی سے خلیوں کو متاثر کیا، شدید نقصان پہنچا اور بعض نمونے مکمل طور پر تباہ ہو گئے۔تحقیق کے مرکزی مصنف ڈاکٹر با وانگ کے مطابق، ہمارے تجربات سے ثابت ہوتا ہے کہ تیز رفتار انٹرفیرون ردِعمل رائنو وائرس کو قابو میں رکھنے میں انتہائی موثر ہے، حتی کہ اس وقت بھی جب مدافعتی نظام کے دوسرے خلیے موجود نہ ہوں۔تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ جب وائرس کی تعداد بڑھتی ہے تو یہ ایک اور نظام کو متحرک کر دیتا ہے، جو شدید بلغم کی پیداوار اور سوزش کا باعث بنتا ہے۔ یہی عمل سانس لینے میں دشواری اور دمہ جیسے مریضوں میں علامات کو بگاڑ دیتا ہے۔سینئر محقق ڈاکٹر ایلن فاکس مین کا کہنا ہے کہ یہ تحقیق اس تصور کو تقویت دیتی ہے کہ کسی وائرس سے بیماری ہوگی یا نہیں، اور کتنی شدید ہوگی، اس کا انحصار زیادہ تر جسم کے ردِعمل پر ہوتا ہے، نہ کہ صرف وائرس کی خصوصیات پر۔سائنسدانوں نے تسلیم کیا کہ لیبارٹری ماڈل میں حقیقی انسانی جسم کے تمام عوامل شامل نہیں، جیسے مکمل مدافعتی نظام اور ماحولیاتی اثرات۔ آئندہ تحقیق میں ان پہلوں کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ نزلے اور دیگر سانس کی بیماریوں کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں