نظام شمسی میں ایک نئے سیارے کی موجودگی کا انکشاف

کراچی (بیو رو چیف )نظام شمسی میں ایک نئے سیارے کی موجودگی کا انکشاف ہو ا ہے ۔ ماہرین فلکیات نے سورج کے نظام کے دور دراز حصے میں ایک پوشیدہ سیارے کے ممکنہ وجود کے شواہد دریافت کیے ہیں۔ اس حوالے سے تحقیق جو کہ منتھلی نوٹسز آف دی رویل ایسٹرونومیکل سو سا ئٹی میں شائع ہوئی ہے، جس میں اس نئے مفروضہ سیارے کو پلینیٹ وائی (Planet Y) کا نام دیا گیا ہے۔ مذکورہ سیارے کی موجودگی کا اندازہ کیپر بیلٹ کے دور دراز اجسام کے غیر معمولی جھکا سے لگایا گیا ہے۔سی این این کی رپورٹ کے مطابق کیپر بیلٹ، نیپچون کے باہر موجود برفیلے اجسام کی ایک وسیع انگنت حلقہ ہے، جو طویل عرصے سے فلکیات دانوں کے لیے پوشیدہ سیاروں کی تلاش کا مرکز رہا ہے۔ اگرچہ پلینیٹ وائی کا براہِ راست مشاہدہ ابھی تک نہیں کیا گیا، لیکن تقریبا 50 دور دراز اجسام کے مداروں میں غیر متوقع جھکا اس کے وجود کا اشارہ دیتے ہیں۔تحقیق کے سربراہ اور پرنسٹن یونیورسٹی کے ڈاکٹریٹ کے امیدوار عامر سراج نے سی این این کو بتایا کہ، ایک ممکنہ وضاحت یہ ہے کہ ایک غیر مرئی سیارہ کیپر بیلٹ کے پاس موجود ہے، جو شاید زمین سے چھوٹا اور عطارد یعنی مرکری سے بڑا ہو، اور سورج کے نظام کے انتہائی بیرونی حصے میں گردش کر رہا ہو۔ یہ مقالہ سیارے کی دریافت نہیں بلکہ ایک ایسا معمہ ہے جس کا حل ممکنہ طور پر کوئی سیارہ ہو سکتا ہے۔نیپچون کے باہر چھپے ہوئے سیاروں کا تصور نیا نہیں ہے۔ گزشتہ صدی کے آغاز سے ہی پلینیٹ ایکس کی تلاش شروع ہوئی تھی۔ سن 1930 میں دریافت ہونے والا پلوٹو بھی کبھی اس پلینیٹ ایکس کا حصہ سمجھا جاتا تھا، مگر بعد میں اس کو ایک بونا سیارہ قرار دیا گیا کیونکہ اس کا حجم بہت چھوٹا تھا۔پلینیٹ وائی پہلے سے مجوزہ پلینیٹ نائن سے مختلف ہے، جسے زمین کے مقابلے میں پانچ سے دس گنا بڑا اور کہیں زیادہ دور تصور کیا جاتا ہے۔ سراج نے کہا کہ دونوں مفروضہ سیارے سورج کے نظام میں ایک ساتھ موجود ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا، یہ ایک بہت دلچسپ موضوع ہے اور اسی لیے ہم نے اس مسئلے پر تحقیق کی۔عامر سراج اور ان کی ٹیم نے مشاہدہ کیا ہے کہ زمین-سورج کے فاصلے کے تقریبا 80 گنا دور موجود اجسام کا جھکا تقریبا 15 ڈگری ہے، جو کسی گزرنے والے ستارے یا روایتی سیارے کی تشکیل کے ماڈلز سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں