85

نواز شریف سیاسی نظام کی مضبوطی کیلئے متحرک (اداریہ)

مسلم لیگ (ن) کے صدر وسابق وزیراعظم نواز شریف نے ملکی سیاست میں مکمل طور پر متحرک اور فعال ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے ان سے گزشتہ روز لاہور میں پارٹی راہنمائوں رانا ثناء اﷲ اور خواجہ سعد رفیق سمیت دیگر لیگی راہنمائوں سے ملاقات بھی کی ہے پارٹی راہنمائوں سے ان کی 2گھنٹے سے زائد ملاقات جاری رہی ملاقات میں نواز شریف نے سیاسی نظام کی مضبوطی کیلئے اپنا سیاسی کردار ادا کرنے کیلئے متحرک ہونے کا فیصلہ کیا’ نواز شریف نے اس موقع پر کہا کہ وہ جلد پارٹی کارکنوں اور راہنمائوں سے ملاقاتیں کریں گے بعض راہنمائوں سے اسی ہفتہ سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کر دیںگے علاوہ ازیں وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین سے بھی ملاقاتوں کا ارادہ رکھتے ہیں،’ نواز شریف کا ملکی سیاسی نظام کی مضبوطی کیلئے متحرک ہونے کا فیصلہ یقینا مسلم لیگ (ن) اور سیاسی نظام دونوں کیلئے اہمیت رکھتا ہے، نواز شریف کو سیاست سے آئوٹ کرنے کی کوششیں دم توڑ چکی ہیں انہوں نے آٹھ فروری کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کا الیکشن لڑا اور رکن اسمبلی منتخب ہوئے بعدازاں ان کو 28مئی کے پارٹی اجلاس میں پارٹی صدر منتخب کیا گیا یوں ان پر ایک بار پھر سیاست میں اپنا کردار ادا کرنے کا در کھل گیا طویل عرصہ تک ملک سے باہر رہنے اور سیاست سے دور رہنے کی وجہ سے نواز شریف سے مرکزی قیادت اور ان کے قریبی ساتھیوں نے دوری اختیار کئے رکھی مسلم لیگ (ن) کا عام کارکن نواز شریف کے وطن واپس نہ آنے سے مایوس ہو چکا تھا ملک گیر شہرت رکھنے والی سیاسی جماعت مسلم لیگ (ن) بتدریج اپنی سیاسی اہمیت کھو رہی تھی جس کا رزلٹ آٹھ فروری کے انتخابات میں سامنے آیا رانا ثناء اﷲ’ خواجہ سعد رفیق سمیت بڑے بڑے نام اپنے حریفوں سے شکست کھا گئے جس کا بڑا سبب پارٹی میں اختلافات تھے’ شاہد خاقان عباسی’ مفتاح اسماعیل’ محمد زبیر اور متعدد لیگی راہنمائوں نے نئی سیاسی پارٹی بنالی اور مزید لیگی راہنمائوں کو اس نئی جماعت میں شمولیت کی دعوت دی جا رہی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جبکہ دوسری جانب پی ٹی آئی حکومت کے خلاف نیا الائنس بنا کر اس پر سیاسی دبائو بڑھانا چاہتی ہے مولانا فضل الرحمن جیسے کہنہ مشق سیاستدان جو کل تک پی ٹی آئی کے خلاف تحریکوں میں حصہ لیتے رہے آج پی ٹی آئی کے ساتھ ہاتھ ملا رہے ہیں جو اس بات کی علامت ہے کہ ملک کا سیاسی نظام تاحال صحیح سمت کی جانب نہیں چل سکا مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں نواز شریف کے غیر متحرک ہونے سے مرکزی قیادت صوبائی قیادتیں اور اہم راہنمائوں سمیت کارکنوں کی بڑی تعداد غیر فعال اور خاموش ہو چکی تھی کسی بھی ایونٹ میں لیگی کارکنوں اور سرگرم راہنمائوں کی عدم شرکت اس کا واضح ثبوت ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز شریف مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ ہولڈرز اور ڈویژنل’ ڈسٹرکٹ اور تحصیل لیول کی تنظیموں کے عہدیداروں کو سرکاری اداروں میں ایڈجسٹ نہ کر کے پارٹی کو کمزور کر رہی ہیں نواز شریف کو اس کا بھی نوٹس لینا چاہیے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی گرفت خاصی کمزور ہے اس کو مضبوط بنانے کیلئے عہدیداروں’ ارکان اسمبلی’ ٹکٹ ہولڈرز اور سرگرم کارکنوں سے رابطے رکھنے چاہئیں مرکز اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومتیں ہونے کے باوجود مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے کام نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے میاں نواز شریف پر پارٹی کی صدارت سنبھالنے کے بعد بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں لہٰذا ان کو ملک کے سیاسی نظام کی مضبوطی کیلئے اپنا کردار ادا کرنے میں مزید تاخیر نہیں کرنی چاہیے پہلے اپنی جماعت کے ارکان اسمبلی’ ڈویژنل’ ضلعی’ تحصیل تنظیموں کے عہدیداروں سے ملاقاتیں کر کے ان کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ان کو فعال بنانا چاہیے اس کے بعد عام کارکنوں کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کرنا چاہیے ان کے تحفظات دور کرنے چاہئیں اس کے دیگر سیاسی قائدین کے ساتھ ملاقاتیں کر کے سیاسی عدم اسحکام کے خاتمہ کیلئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں