نہر گوگیرہ برانچ پر جنگلات کو آگ لگا کر درخت چوری کرنا معمول

ڈجکوٹ (نامہ نگار ) نہر گوگیرہ برانچ پر جنگلات کو آگ لگا کر درخت چوری کرنا معمول بن گیا ، لاکھوں روپے کے درخت غائب ،آگ لگائے جانے سے پرندے ہلاک ہونے لگے، ماحول پر مضر اثرات مرتب ہونے لگے روڈو کورو پل نہر گوگیرہ برانچ پر واقع جنگلات میں درخت چوروں نے چوری کا نیا طریقہ ڈھونڈ لیا ہے درختوں کے جھنڈ میں خشک پتے اکٹھے کرکے آگ لگا دی جاتی ہے جس کی زد میں آکر تناور درخت سوکھ جاتے ہیں اور اگلے دن درخت الیکٹرک آری کی مدد سے کاٹ لئے جاتے ہیں ذرائع نے بتایا کہ چند دن میں پچاس سے زائد درخت کاٹے جا چکے ہیں جبکہ آگ لگنے سے پرندوں کے گھونسلے بھی جل جاتے ہیں اور درجنوں پرندے جھلس کر ہلاک ہوجاتے ہیں بڑی تعداد میں درخت اور سبزہ جلنے سے ماحول پر مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور آکسیجن کم ہورہی ہے ذرائع نے بتایا کہ حصہ اوپر تک جاتا ہے اور فاریست گارڈز کے سٹور اور ڈیرے لکڑیوں سے بھرے رہتے ہیں جبکہ بڑے تنے لکڑ منڈی میں فروخت کئے جاتے ہیں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ ششم کیکر اور جامن کے تاریخی درخت بھی مافیا کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جن کی مالیت کروڑوں میں بتائی جاتی ہے بلاک آفیسر عیسی نے موقف دینے سے انکار کر دیا ، عوامی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز صاحبہ سے فوری نوٹس لینے اور کرپٹ ملازمین کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں