نہم کے مایوس کن نتائج،سرکاری سکولز کے معیاری تعلیم کے دعوے دھرے رہ گئے

ٹھیکریوالہ (نامہ نگار) سرکاری سکولز کے معیاری تعلیم کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، نہم کلاس کے نتائج نے سرکاری تعلیمی نظام کی قلعی کھول دی۔ متعدد سرکاری سکولز کا رزلٹ انتہائی مایوس کن رہا جس نے والدین اور طلبہ میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔گورنمنٹ ہائی سکول 275پینسرہ کا رزلٹ صرف 4.65فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ اسی طرح گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول 74ٹھیکریوالہ کانتیجہ 16فیصد، گورنمنٹ ہائی سکول 259آر بی گووروسر کا 13.53فیصد، گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول 66دھاندرہ کا 18.32فیصد، گورنمنٹ ہائی سکول 248آر بی کا 18.80فیصد، گورنمنٹ ہائی سکول 35ج ب کا 18.33فیصد، گورنمنٹ ہائی سکول 69ج ب کا 25.58فیصد جبکہ گورنمنٹ ہائی سکول 61ج ب کا 23.24فیصد رہا۔نتائج کے مطابق بیشتر سرکاری سکولز میں کامیابی کی شرح نہایت کم رہی جس پر والدین نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی طرف سے سرکاری سکولز کو معیاری سکول بنانے کے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں۔ غریب عوام مہنگائی کے باعث اپنے بچوں کو سرکاری سکولز میں پڑھانے پر مجبور ہیں لیکن یہاں کے نتائج نے ہمارے بچوں کا مستقبل دا پر لگا دیا ہے، والدین کا مزید کہنا تھا کہ سرکاری سکولز میں محض عمارتوں کی پینٹنگ یا داخلوں کی تعداد بڑھانے سے معیار تعلیم میں بہتری نہیں لائی جا سکتی۔ اصل ضرورت اساتذہ کی عزت، حوصلہ افزائی اور تدریسی معیار بہتر بنانے کی ہے، بے شک سکول دو کمروں پر مشتمل ہی کیوں نہ ہو۔انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور صوبائی وزیر تعلیم سے مطالبہ کیا کہ سرکاری سکولز میں معیاری تعلیم یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں اور اساتذہ کو دیگر ذمہ داریوں میں الجھانے کے بجائے تدریس پر توجہ کی طرف راغب کیا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں