نیشنل ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سابق وفاقی مشیر داخلہ ملک اصغر علی قیصر ایڈووکیٹ ، پی پی پی یورپ کے نائب صدر رانا محسن خان نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی بلوچستا ن واقعہ کی شدید مذمت کرتی ہے ،، میثاق جمہوریت کے مطابق مقامی حکومتوں کو کب بااختیار کیا جائے گا ؟بلوچستان میں آپریشن ہوگا تو وہاں سے دہشت گرد کراچی بھاگیں گے، اے پی ایس کے وقت کی طرح وزیر اعظم اے پی سی بلائیں اور اے پی سی قومی ایجنڈا طے کرے تمام سیاسی جماعتیں صرف مذمت تک نہ رہیں عملی طورپر دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل سامنے لائیں، سیکیورٹی فورسز کے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں، نیشنل ایکشن پلان کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے، وزیراعظم سانحہ جعفر ایکسپریس پر اے پی سی بلائیں جو قومی ایجنڈا طے کرے ، دہشت گردی کے خلاف متفقہ لائحہ عمل سامنے لائیں، سابق وفاقی مشیر داخلہ ملک اصغر علی قیصر ایڈووکیٹ ، پی پی پی یورپ کے نائب صدر رانا محسن خان نے کہا ہے کہ پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز کے شہدا کو پیپلزپارٹی اور عوام پاکستان سلام پیش کرتے ہیں آج حکومت اور اپوزیشن طے کریں کہ اگلے دس سال ملک کو کیسے چلانا ہے؟ قومی ایجنڈا بنانے کی ضرورت ہے کے پی کے میں بدترین حکمرانی ہوگی تو دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہوگا ۔ میثاق جمہوریت کے مطابق عدلیہ کے بارے میں 26 ویں آئینی ترمیم لائی گئی۔انہوں نے کہا کہ سیاسی نظام میں جو کمی ہے اسے دور کرنا چاہیے، ہمیں مل کر دہشت گردی کے خلاف لائحہ عمل سامنے لانا ہوگا پی ایس پر حملے کی طرح قوم کو متحد کرنا ہوگا، اے پی ایس کے وقت فوجی و عسکری و اپوزیشن قیادت نے مشاورت کی، یہ نیشنل ایکشن پلان اسی قومی مشاورت یا اے پی سی کا نتیجہ تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں