نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا خسارہ318ارب سے متجاوز

اسلام آباد (بیوروچیف) مالی سال 2024-25 میں نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا خالص خسارہ 318ارب روپے سے تجاوز کرنے کے بعد نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) کا مجموعی خسارہ اور قرضے بالتر تیب 18کھرب 20ارب اور 31 کھرب روپے سے تجاوز کر گئے ہیں جبکہ اس کی سالانہ آمدن صرف 54ارب 15کروڑ روپے ہے ۔ رپورٹ کے مطابق این ایچ اے کے کل اثاثوں کی مالیت 58 کھرب روپے ہے جو پچھلے 2 سال سے کم ہورہی ہے، مالی سال 2022 میں 59 کھرب روپے اور مالی سال 2023 میں 58کھرب 40 ارب روپے تھی۔قومی اسمبلی میں ایک تحریری بیان میں وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے مالی سال 2024 کے لیے این ایچ اے کا خالص خسارہ 318.03 ارب روپے بتایا جو ایک سال قبل کے 413 ارب روپے کے مقابلے میں 23 فیصد کم ہے لیکن مالی سال 2022 کے خسارے سے تقریبا دوگنا ہے۔وفاقی وزیر نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ وفاقی حکومت این ایچ اے کو سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے ذریعے ایک مخصوص مارک اپ ریٹ پر نقد ترقیاتی قرضے کی شکل میں سالانہ ترقیاتی فنڈز فراہم کر رہی ہے۔وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ خالص خسارہ غیر نقد اخراجات کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے ، جیسا کہ پی ایس ڈی پی اور غیر ملکی قرضوں پر مالی اخراجات، غیر ملکی قرضوں پر زر مبادلہ کے نقصانات اور قدر میں کمی شامل ہے۔انہوں نے دعوی کی کہا کہ لہذا این ایچ اے کو حقیقی معنوں میں مالی نقصان نہیں اٹھانا پڑ رہا ہے کیونکہ یہ عوامل نقد رقم کے حقیقی اخراج کے بجائے اکانٹنگ ایڈجسٹمنٹ ہیں۔دوسری جانب وزارت خزانہ کے سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ(سی ایم یو) نے نشاندہی کی ہے کہ این ایچ اے کو اہم مالی مسائل کا سامنا ہے، جس کی نشاندہی قرضوں کے بڑھتے ہوئے بوجھ اور پیچیدہ اکانٹنگ کے مسائل سے ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت این ایچ اے کے پاس مجموعی طور پر 31 کھرب روپے کے واجب الادا قرضے ہیں جن میں سالانہ 300 ارب روپے کی شرح سے اضافہ ہورہا ہے، قرضوں کا یہ پورٹ فولیو 98 ارب روپے کا سود پیدا کرتا ہے جو سالانہ 150 ارب روپے سے زائد ہونے کی توقع ہے جس سے حکومت پاکستان کے لیے کریڈٹ رسک پیدا ہوگا جو ان قرضوں کی ضمانت دیتی ہے۔اس کے علاوہ وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کے معاہدوں کے لیے خودمختار گارنٹی کی موجودگی سے مزید مالی دبا میں اضافہ ہوتا ہے، جس سے حکومت کے کریڈٹ رسک میں اضافہ ہوتا ہے۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ این ایچ اے کا قرضوں کی ادائیگی کے لیے حکومتی امداد پر انحصار اور اس کی محدود آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیتوں کی وجہ سے حکومت کے مالی استحکام پر دبا پڑتا ہے، خاص طور پر اگر قرضوں کی عدم ادائیگی یا لیکویڈیٹی کا بحران پیدا ہوتا ہے۔بیلنس شیٹ پر این ایچ اے کے کل اثاثے 58کھرب89 ارب روپے ہیں، جن پر کل واجبات 29 کھرب روپے ہیں، جو اعلی سطح کے فوائد کی عکاسی کرتا ہے، تاہم اس کی کل آمدنی صرف 74.007 ارب روپے ہے جبکہ کل اخراجات 242.57 ارب روپے ہیں جو آپریشنل خسارے کی نشاندہی کرنے کے علاوہ حکومتی فنڈنگ پر اس کے انحصار کو مزید بڑھاتے ہیں۔مزید برآں، این ایچ اے کو اپنے وسیع بنیادی ڈھانچے کے اثاثوں کی دوبارہ تشخیص کی وجہ سے 52 کھرب روپے سے زیادہ کی قدر میں کمی کے اخراجات کا سامنا ہے۔اس پس منظر میں، وزارت نے این ایچ اے کی مالی پریشانیوں کو تین بڑے خطرے والے علاقوں میں تقسیم کیا ہے جن میں کریڈٹ رسک، مارکیٹ رسک، اور آپریشنل رسک شامل ہے۔اس نے کہا کہ اس کا کریڈٹ رسک قرض اور سود کی ذمہ داریوں میں اضافہ کر رہا ہے، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ این ایچ اے کا 31 کھرب روپے کا قرضہ اور بڑھتی ہوئی سالانہ سود کی ذمہ داری 150 ارب روپے سے تجاوز کرنے کا امکان ہے جس سے حکومت کو کریڈٹ رسک کا سامنا ہے۔وزارت نے کہا کہ سالانہ 300 ارب روپے کے قرضوں میں اضافے کے ساتھ، اتھارٹی کا حکومت کے حمایت یافتہ قرضوں اور خودمختار گارنٹی پر انحصار اہم مالی دبا میں اضافہ کرتا ہے۔مارکیٹ رسک کے حوالے سے وزارت خزانہ نے کہا کہ این ایچ اے کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے افراط زر اور سیمنٹ، اسٹیل اور ایندھن جیسے تعمیراتی مواد کی بڑھتی ہوئی لاگت کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہیں۔چونکہ ان اخراجات میں اتار چڑھا ہوتا ہے ، طویل مدتی منصوبوں سے وابستہ اخراجات میں اضافہ ہوتا ہے ، خاص طور پر جب افراط زر کی ایڈجسٹمنٹ منصوبے کے بجٹ یا آمدنی کے ماڈل میں ظاہر نہیں ہوتی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں