نیند کی کمی کا ایک اور بڑا نقصان دریافت

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) نیند صرف جسمانی اور ذہنی مستعدی یا سکون ہی بحال نہیں کرتی بلکہ اس سے زندگی کی مدت کی پیشگوئی بھی کی جاسکتی ہے۔یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔اوریگن ہیلتھ اینڈ سائنس یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ رات کی اچھی نیند لمبی عمر کے حوالے سے توقعات سے زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے۔درحقیقت اگر کوئی فرد ہر رات مختصر نیند کو عادت بنالے تو جلد موت کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔اس تحقیق کے لیے امریکا کے ایک بڑے ڈیٹا بیس کا تجزیہ کیا گیا اور اوسط عمر سے متعلق عناصر کی جانچ پڑتال کی گئی۔اس ڈیٹا کا موازنہ سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن کے ایک سروے کے ڈیٹا سے کیا گیا جو 2019 سے 2025 کے درمیان اکٹھا کیا گیا تھا۔جب محققین نے طرز زندگی کے عناصر کا تجزیہ کیا تو نیند کی اہمیت واضح ہوئی۔تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اوسط عمر سے نیند کا تعلق غذا، جسمانی سرگرمیوں یا تنہائی سے زیادہ اہم ہوتا ہے، البتہ تمباکو نوشی نیند کی کمی سے زیادہ صحت کو نقصان پہنچاتی ہے۔محققین نے بتایا کہ ہم نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ نیند زندگی کی مدت کے لیے اتنی زیادہ اہم ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ ہم یہ ہمیشہ سے جانتے ہیں کہ نیند صحت کے لیے اہم ہے مگر اس تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ لوگوں کو 7 سے 9 گھنٹوں کی نیند کو عادت بنانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ سابقہ تحقیقی رپورٹس میں بھی نیند کی کمی کو موت کے خطرے سے جوڑا گیا ہے مگر اس تحقیق میں پہلی بار ثابت کیا گیا کہ نیند اور اوسط عمر کے درمیان تعلق موجود ہے۔محققین کے مطابق ہر فرد کو کم از کم 7 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لمبی زندگی کا حصول ممکن ہوسکے۔اس تحقیق میں اس تعلق کی حیاتیاتی وجوہات کا جائزہ نہیں لیا گیا تھا مگر محققین نے بتایا کہ نیند دل کی صحت، مدافعتی افعال اور دماغی کارکردگی کے لیے ناگزیر کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمیں نیند کو ترجیح کو اتنی ہی ترجیح دینی چاہیے جتنی غذا یا ورزش کو دیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کئی بار ہم سوچتے ہیں کہ نیند زیادہ اہم نہیں اور ہفتہ وار تعطیل کے موقع پر اسے پورا کرلیا جائے گا مگر ہر رات اچھی نیند سے صحت کے ساتھ ساتھ اوسط عمر میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔اس تحقیق کے نتائج جرنل سلیپ ایڈوانسز میں شائع ہوئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں