نیٹو ایران جنگ پرتقسیم

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) نیٹو میں ایران جنگ پر شدید تقسیم’32میں سیصرف چھ ممالک نے کھلی حمایت کی۔ نیٹو کے26ممالک غیر جانبدار یا مخالف، صدر ٹرمپ کے لیے چیلنج، بالکان اور بالٹک کے چھ ممالک امریکی اسرائیلی حملوں کے ساتھ، صدر ٹرمپ کا کہنا ہے آبنائے ہرمز کی حفاظت اب امریکی ذمہ داری نہیں۔نیٹو سیکریٹری جنرل نے کہا اتحاد کے طور پر جنگ میں شامل نہیں، بعض ممالک معاونت فراہم کریں گے۔ فوربز کے مطابق دنیا کے سب سے بڑی عسکری اتحاد نیٹو کے اندر شدید تقسیم منظرِ عام پر آگئی ہے۔ ایران کے خلاف امریکی اسرائیلی فضائی حملوں کے دوران، صرف چھ چھوٹے ممالک نے کھلے عام حمایت کا اعلان کیا، جبکہ باقی 26 ممالک نے یا تو غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا یا امریکی فیصلے کی مخالفت کی۔ یہ صورتحال صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے چیلنج بنی ہوئی ہے، جو متحدہ محاذ کی امید رکھتے تھے۔ فوربز کے مطابق بالکان کے 3 ممالک اور بالٹک کے دو ممالک کے ساتھ چیک جمہوریہ وہ واحد نیٹو رکن ہیں جنہوں نے امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے فضائی حملوں کی کھلی حمایت کی۔ رپورٹ کے مطابق نیٹو ایک عسکری اتحاد جس میں کل 32 ممالک شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں