2

واقعہ اسلام آباد اور انتہائی چوکس ہونے کی ضرورت

دہشت گردی کا ایک اور واقعہ۔ پاکستان کے مرکزی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ میں خودکش دھماکہ۔ خوفناک اور دلخراش۔ امام بارگاہ لہو لہو، اسلام آباد کی فضا مغموم۔ انسان مایوس، پریشان، آبدیدہ، خوفزدہ، بدظن، ششدر اور سرتاپاغیر یقینی صورتحال کی تصویر۔ انسان انسان کا دشمن۔ انسان انسان کا ویری۔ انسان انسان کے خون کا پیاسا، انسان انسان کی مکمل تباہی اور بربادی کا خواہاں۔ انسانیت اور حیوانیت یک جا۔ شاید جنونیت اپنا کردار ادا کرنے پر مصر ہے۔ ہو سکتا ہے لیکن شیطان بھی تو انسان کی گھات میں ہے اور یہ ازلی بدبخت انسان کے پیچھے ہے اور اپنے خالق ومالک کے سامنے یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ انسان کی تخلیق اور وہ بھی اس کو مسجود ملائک بنانا۔ آخر کیوں۔ شیطان کی ضد اور اس ضد کو عملی جامہ پہنانے کے لئے انسان کا استعمال کیا جانا اور انسان کے ہاتھوں لاتعداد انسانوں کا خون کروانا۔ افسوس انسان محض استعمال ہورہا ہے اور پتلی تماشہ کا مرکزی کردار۔ انسان کی تخلیق اور اس کا اشرف المخلوقات بنایا جانا۔ آپ اللہ کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائیں گے۔ کان کھلنے سے ہی آنکھیں کھلتی ہیں اور ان دونوں کے کھلنے سے زبان کھلتی ہے تاہم زبان کا استعمال سوچ بچار کے بعد ہی ہونا چاہیئے۔ سوچ بچار کا بلاواسطہ تعلق دماغ سے ہے اور شاید انسان کا اس وقت دماغ مکمل طور پر خراب ہو چکا ہے۔ اس نے ایجادات کیا کرلی ہیں پوری دنیا کو غیر محفوظ کرڈالا۔ ہر چیز کے دو استعمال ہیں ایک مثبت اور ایک منفی۔ مثبت کی ککھ سے خیر برآمد ہوتا ہے اور منفیت شر کو جنم دیتی ہے۔ شر کا خاتمہ انسان کی بنیادی ذمہ داری ہے جبکہ ہم سب انسان مصلحتوں کے شکار ہو گئے ہیں۔ یہ اب کی کہانی نہیں ہے یہ بہت ہی پرانی کہانی ہے اور اب مجھ جیسوں پر لازم ہے کہ ہم نے یہ کہانی آج کے اور آنے والے کل کے انسان کو سنانی ہے۔ محض سنانا ہی نہیں اس کی آنکھوں پر چڑھے مصلحتوں کے ککروں کو اتارنا ہے۔ جہان رنگ و بو نے ان گنت جنگیں دیکھی ہیں اور ان ساری جنگوں کا حاصل خون خرابہ ہے جیت جانے والوں کی جزوقتی تسکین۔ ویسے تو دس محرم کی شام۔ نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے خاندان کے لئے بھاری بلکہ لاجواب ٹریجڈی اور یزید زندہ باد کے نعرے اور یزیدی افواج کے شادیانے۔ پھر 10 محرم گیارہ میں بدل گئی اور قیامت برپا ہونے پر یزید لعین ٹھہرا اور حسین سیدالشھدا۔ اس سے ہٹ کر ہر جنگ کے بعد کے حالات ون پونے۔ انسان نے تو دو جنگ عظیم بھی لڑی ہیں اور پھر اتحادیوں کے ہی درمیان سرد جنگ۔ اس کے بعد افغانستان میدان جنگ۔ ایک دفعہ تو امریکہ امریکہ ہو گئی اور پھر۔ سفر تاحال جاری ہے۔ اونٹ حتمی طور پر کس رخ کروٹ بدلتا ہے۔ ایران گھیرے میں ہے لیکن ہر وقت تازہ دم ہے۔ پاکستان دہشت گردی کی ضد میں ہے پھر بھی اسرائیل اور ہندوستان کے سانس خشک کرنے کے لئے کافی ہے۔ روس اور چین بڑی دانائی اور حکمت سے سر اٹھانے کی کوشش کررہے ہیں۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔پاکستان، پاکستان کے اندر دہشت گردی کی نئی لہر، افغانستان، ہندوستان اور دنیا کا موجودہ منظر نامہ۔ اسی منظر نامے کی بدولت خبرنامہ ترتیب دیا جاتا ہے۔ آخری خبریں آنے تک خدیجہ الکبری امام بارگاہ اسلام آباد میں ایک خودکش دھماکہ اس وقت ہوا جب مسلمان جمعہ المبارک کی نماز میں مصروف تھے۔ 33 افراد شہید ہو گئے اور بے شمار زخمی۔ کتنے خاندان متاثر ہوئے۔ کتنی عورتیں بیوہ ہوئیں، کتنے بچے یتیم ہو گئے وغیرہ وغیرہ۔ ہاتھ پائوں شل ہو جاتے ہیں اور دل ڈوب سا جاتا ہے۔ پاکستان کے موجودہ حالات بڑے ہی نازک اور حساس۔ ہندوستان اپنی شکست پر مسلسل تلملا رہا ہے۔ افغانستان مکمل طور پر مودی کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے۔ اسرائیل صرف پاکستان اور ایران سے خطرہ محسوس کرتا ہے۔ ہمارے اپنے بھی غیروں کی بولی بول رہے ہیں۔ بیرون ملک میں بیٹھے بعض نابکار پاکستانی ملکی استحکام کے بارے میں نئے نئے شوشے چھوڑ رہے ہیں بلکہ جس کے جی جو آتا ہے وہ “چھوڑنا” شروع کردیتا ہے اور نام نہاد آزادی رائے کا سہارا لے کر اپنے خلاف کارروائی سے بچ جاتا ہے۔ فرقہ واریت نے اجتماعی طور پر امت مسلمہ اور خصوصی طور پر پاکستان میں فرقہ واریت کا ہڑ۔ سوشل میڈیا ہمارے ہاتھ لگ گیا ہے اور ہر فرقہ کے مولوی حضرات اس کے ذریعہ سے اپنا لوہا منوانا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ کہ ہر روز ایک نیا بات کا بتنگڑ اور نعرے ہی نعرے۔ ہر فرقہ دوسرے کے خلاف پرجوش ہو جائے اور لفظی جنگ لڑے۔ جہاں تک ہندوستان، افغانستان اور پاکستان کے خلاف دیگر متحارب قومیں ہیں وہ جانیں اور پاکستان کی افواج جانیں۔ یہی ہمارا مثبت پہلو ہے کہ جب بھی کسی طرف سے ہمارے ملک کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کیا گیا جارح کے دانت کھٹے ہوئے۔ آنکھیں نکال دی گئیں اور آگے بڑھنے والے پائوں توڑ دیئے گئے۔ حال ہی میں 2025 میں ہندوستان کو جس طرح جواب دیا گیا ہے اس زخم کو شاید ہی انڈیا کبھی بھول سکے گا۔ پاکستانی افواج کے خلاف پروپیگنڈہ اور بلوچستان میں دہشت گردی اور اسلام آباد واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے دشمن ایک دفعہ پھر دہشت گردی کے سلسلے کو ہمارے تمام شہروں میں پھیلانا چاہتے ہیں اور ہم پر لازم ہے کہ ہم ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لئے ہر وقت تیار رہیں کیونکہ مثل مشہور ہے کہ اگر آپ امن چاہتے ہیں تو جنگ کے لئے تیار رہیںپاکستان کی عوام کو ان حالات کے بارے میں پوری طرح آگاہ کرنے کی ضرورت ہے اور ان کو اعتماد میں لینا ہو گا اور ان کا مورال اپ رکھنا ہوگا۔ حساس اداروں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے تاکہ وہ مشکوک افراد پر نظر رکھیں اور حسب ضرورت انسدادی کارروائیوں کو یقینی بنایا جائے۔ اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرنا بہت ہی ضروری ہے۔ آپس کے اختلافات کے بارے میں مربوط منصوبہ بندی دانائی کا تقاضا ہے۔ فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے فوری اور ضروری اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بین الاقوامی طور پر ہندوستان اور اسرائیل کے مکروہ چہرے کو بے نقاب کرنے کے لئے انتہائی فعال سفارت کاری۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دہشت گردی میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ہرگز تاخیر نہیں کرنا ہوگی۔ ان ساری باتوں سے بھی بڑھ کر سب صوبوں کے لوگوں کے درمیان بھائی چارے کی فضا قائم کرنا سیاسی اور عسکری دونوں قیادتوں کی بنیادی ذمہ داری اور مذکورہ سارے کام کرکے ہم سب نے اپنے آپ کو ذمہ دار شہری ثابت کرنا ہے۔ شہدائے اسلام آباد۔ انا للہ وانا الیہ راجعون ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں