والدین کے بغیر زندگی ادھوری۔۔۔

میاں محمد بخش نے کیا خوب اور حقیقت کے مطابق فرمایا کہ باپ سراں دے تاج محمد۔۔۔۔واقعی انسان کی تمام تر سج دھج والدین کی بدولت ہوتی ہے، جب تک والدین زندہ سلامت توانا وتندرست ہوتے ہیں، انسان خود کو دنیا کا طاقتور ترین انسان سمجھتا ہے، لیکن جب والدین فوت ہو جاتے ہیں، اُس وقت اسی طاقتور انسان کی دنیا ویران ہو جاتی ہے۔ دنیا دار خاص طور پر اپنے خاص وہ وہ رنگ دکھاتے ہیں، جو انسان کے رنگ اُڑا کر رکھ دیتے ہیں، میرے والد محترم ملک محمد شریف انتہائی خوددار انسان تھے، جنہوں نے ہمیں خودی اور خوداعتمادی کا درس دیا، حتی الامکان ہمیں لقمہ حلال کھلایا، بہترین انداز میں تعلیم وتربیت کی، ہم 8بہن بھائی تھے، جن میں سے 5بھائی یکے بعد دیگرے وفات پا گئے، اب میں اپنی 2بہنوں کا اکلوتا بھائی ہوں اور زندگی کے کٹھن راستوں کا تنہامسافر ہوں، میرے والد محترم کا دیا ہوا حوصلہ مجھے مشکلات سے نبردآزما ہونے میں بہت کام آتا ہے،انہوںنے بھرپور زندگی گزاری، خوب محنت کی، بالآخر 11جولائی 2006ء کو اپنے خالق حقیقی سے جاملے، وقت بڑی تیزی سے گزر رہا ہے، کئی زخم وقت گزرنے کے ساتھ بھر جاتے ہیں جبکہ کئی مزید گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں، والد محترم کی 19ویں برسی پر ان کی یاد میں میری آنکھیں اشکبار ہیں، ان کے ساتھ گزرا وقت ہمارا سرمایہ حیات ہے اور ان کی یادیں ہمیشہ ہمارے ساتھ رہیں گی، باپ کا اپنے بچوں کو چھونا، پیار کرنا’ دل سے لگانا، یہ تو بچپن کی باتیں ہیں اور ہر بچہ جب جوان ہوتا ہے، پھر بوڑھا بھی بن جائے تو بچپن کی ان حسین یادوں کو نہیں بھولتا، انسان باپ بنتا ہے تو اس کی آنکھیں یہ سوچ کر بھیگ جاتی ہیں کہ پتہ نہیں ہمارے باپ نے کتنی دفعہ ہمیں اپنے سینے سے لگانے کیلئے اپنے بازو کھولے ہونگے؟ والدین جیسی دنیا میں کوئی نعمت نہیں ہے، اگر کسی کو یہ نعمت حاصل ہے اور وہ والدین کی خدمت واطاعت کر رہا ہے تو یہ بڑا سعادت مند اور اﷲ تعالیٰ کا محبوب بندہ ہے، اﷲ تعالیٰ نے انسان کو مختلف رشتوں سے وابستہ فرمایا ہے، رشتے بنا کر ان کے حقوق مقرر کر دیئے گئے اور اﷲ رب العزت کے بنائے ان رشتوں کے حقوق ادا کرنا ضروری ہے۔ بے شک! باپ ایک سائبان شفقت ہے جس کے سائے میں اولاد پروان چڑھتی ہے، باپ اﷲ رب العزت کی عظیم نعمت ہے اور انسان جو کچھ بھی ہے وہ اپنے باپ کی وجہ سے ہے، میرے والد محترم ملک محمد شریف نے نہایت احسن طریقہ سے میری تعلیم وتربیت کر کے میرے لئے کامیابیوں وکامرانیوں کے راستے ہموار کئے،یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ والد اپنی اولاد کی پرورش کیلئے اپنی جان تک لڑا دیتا ہے، وہ اپنی ساری زندگی اپنی ولاد کیلئے راحت اور آسانی پیدا کرنے میں بسر کرتا ہے اور اسے دنیا کی تمام نعمتیں لا کر دینے کیلئے کوشاں رہتا ہے اور اس مقصد کیلئے اپنی خواہشات کو بھی دبا دیتا ہے، دنیا میں کوئی بھی شخص دوسرے کو خود سے آگے جاتا ہوا نہیں دیکھ سکتا، کسی دوسرے کو خود سے زیادہ ترقی کرتا ہوا دیکھ کر شاید ہی کوئی خوش ہو، لیکن باپ کی شخصیت ایسی ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ اس کی اولاد اس سے آگے بڑھے، وہ اپنے بچوں کو ترقی کرتا دیکھ کر خوشی سے سرشار ہو جاتا ہے، باپ ایک ایسا محافظ جو ساری زندگی اولاد کی نگہبانی کرتا ہے، اﷲ تعالیٰ نے میرے والد محترم کو بڑی خوبیوں سے نوازا، رضائے الٰہی پر صابر وشاکر رہنا ان کی وہ خدا داد خوبی تھی جس پر اﷲ تعالیٰ کا جس قدر بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے، میں نے اپنے والد محترم کی طرح اپنی والدہ محترمہ میں بھی صبر وشکر کے اوصاف دیکھے، یہ سچ ہے کہ باپ سورج کی مانند ہے جو گرم تو ہوتا ہے مگر نہ ہو تو اندھیرا چھا جاتا ہے، فصلیں کچی رہ جاتی ہیں، باپ کی سختی صرف بچوں کو پختہ کرنے کیلئے ہوتی ہے، اﷲ تعالیٰ نے ماں باپ میں سے باپ کو سخت طبیعت کا بنایا اگر ایسا نہ ہوتا تو بچے بے راہروی کا شکار ہو جاتے جبکہ ماں کو نرم طبیعت عطا کر کے اولاد کیلئے سایہ رحمت بنایا، ماں کی عظمت کا دنیا کا ہر شخص قائل ہے، بلاشبہ! ماں آرام وسکون جان ہے اور عظمت کا نشان بھی، ماں محبت کا جہان ہے، بحر محبت کی گہرائی میں ہر چیز کو سمیٹے ہوئے احساس کو ماں کہتے ہیں، والدین کی شان ایک نہ ختم ہونے والی داستان ہے، ماں جنت ہے تو باپ جنت کا دروازہ ہے، ماں جنم دیتی ہے تو باپ زندگی دیتا ہے، ماں چلنا سکھاتی ہے تو باپ کھڑے رہنا سکھاتا ہے، ماں بچے کی حفاظت کرتی ہے تو باپ دونوں کی حفاظت کرتا ہے، ماں گھر سنبھالتی ہے تو باپ گھر بناتا ہے، ماں کی گود مدرسہ ہے تو باپ عمارت ہے، والد گرامی ملک محمد شریف اکثر کہا کرتے تھے کہ باپ کو چاہیے کہ اپنی اولاد کا خیال رکھے، بچے جب سوچنے سمجھنے کی صلاحیت حاصل کر لیں تو انہیں کردار سازی میں اتنا پختہ کر دینا چاہیے کہ وہ زمانے کے نشیب وفراز کا مقابلہ کر سکیں، اﷲ تعالیٰ کا شکر ہے کہ مجھے اپنے ماں باپ کی خدمت کا شرف حاصل ہوا، اﷲ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ اپنے پیارے حبیب مدنی کریم آقا صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم کے صدقے میرے والدین مرحومین کی کامل مغفرت، کامل بخشش فرمائے، (آمین ثم آمین)۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں