55

وزیراعظم معاشی اہداف جلد حاصل کرنے کیلئے پُرعزم (اداریہ)

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اہم معاشی اہداف کے تعین کیلئے پانچ سالہ پلان لانے کی تیاری کر لی 13 واں پانچ سالہ پلان منظوری کیلئے قومی اقتصادی کونسل میں پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، طویل بنیادوں پر معاشی منصوبہ بندی کیلئے پلان لانے کی تیاریاں کر لی گئی ہیں حکومت نے بجٹ میں پلان منظور کرانے کا فیصلہ کیا ہے، میکرواکنامک فریم ورک’ توانائی’ توازن’ ادائیگی’ ترقیاتی بجٹ’ خوراک وزراعت’ آبادی’ غربت اور گورننس اصلاحات پلان کا حصہ ہیں، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی سفر کٹھن ہے مگر ہم معاشی اہداف حاصل کر لیں گے SIFC کی کارکردگی نے ناقدین کے منہ بند کر دیئے ہیں ملکی ترقی کیلئے جو بھی کام کرے گا وہ ہمارے سر کاتاج ہو گا وزیراعظم نے کہا عسکری قیادت نے ملکی سرمایہ کاری میں اہم کردار ادا کیا ہے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات یکسو ہیں وہ تمام سرمایہ کاری ایس آئی ایف سی کے ذریعے کریں گے دونوں نے بڑی انویسٹمنٹ کی یقین دہانی کرائی ہے SIFC اجلاس میں آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر وزیر داخلہ محسن نقوی چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ سمیت وفاقی وزراء چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز اور مختلف محکموں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی، وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ایف بی آر کی 100 فی صد ڈیجیٹلائزیشن کیلئے ٹیم ہائر کر لی ہے انشاء اﷲ ملک کی معیشت کو مستحکم کریں گے! بلاشبہ ایس آئی ایف سی کے پلیٹ فارم سے ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاری کے حوالے سے مثبت اشاریے مل رہے ہیں اس وقت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات پاکستان میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کیلئے تیار ہیں جو اس بات کا بین ثبوت ہے کہ پاکستان کی کوشش رنگ لے آئی ہیں اور آنے والے وقتوں میں مزید سرمایہ کاری کی نوید ملے گی،، بدقسمتی سے ملک کی معاشی صورت حال کئی حوالوں سے بہتری کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ ہے کہ ماضی کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ہماری معیشت قرضوں کے جال میں بُری طرح جکڑی ہوئی ہے اس کیفیت سے نجات کیلئے اگرچہ دوست ملکوں کے تعاون سے نجی سرمایہ کاری کو فروغ دینے کی کوششیں جاری ہیں لیکن فی الوقت معیشت کا پہیہ رواں رکھنے کیلئے مزید قرض کے حصول کے سوا کوئی چارہ نہیں اس صورتحال کے باعث عالمی مالیاتی فنڈ سے مالی تعاون حاصل کرنا اور اس کی مشاورت سے دورس معاشی اصلاحات عمل میں لانا ہمارے لئے ناگزیر ہے ماہرین کے مطابق ان اصلاحات سے قومی معیشت بتدریج اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے قابل ہو سکتی ہے گزشتہ دنوں آئی ایم ایف کا وفد پاکستان آیا تھا اور قرض کے نئے پروگرام پر پیش رفت ہوئی ہے آئی ایم ایف کے مطالبات کی طویل فہرست میں ٹیکس نیٹ بڑھا کر اخراجات کم کر کے بہتر عوامی فنانسنگ پر توجہ مرکوز کی گئی ہے توانائی کے شعبے میں مالیات کو درست کرنا’ مہنگائی کو کم کرنا مناسب مالیاتی اور شرح مبادلہ کی پالیسیوں کو اپنانا’ سرکاری تحویل میں چلنے والے کاروباری اداروں کی تنظیم نو اور نجکاری کے ذریعے عوامی خدمات کی فراہمی کو بہتر بنانا’ سرمایہ کاری اور مضبوط گورننس کے لیے برابری کے مواقع مہیا کرکے نجی شعبے کی شراکت کو فروغ دینا اس فہرست میں شامل ہے قومی بجٹ کی پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد آئی ایم ایف اس سال جولائی میں اسٹاف لیول معاہدے کو حتمی شکل دے گا آئی ایم ایف مشن کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اصلاحاتی پروگرام کا مقصد پاکستان کو معاشی استحکام سے مضبوط’ جامع اور لچکدار ترقی کی طرف سے لے جانا ہے،، آئی ایم ایف نے نئے قرضے جاری کرنے کیلئے پاکستان کو اپنے ارادوں سے آگاہ کر دیا ہے اب یہ پاکستان حکومت کا کام ہے کہ وہ معاشی استحکام کیلئے مؤثر اقدامات یقینی بنائے شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ کیلئے متحرک ہے اور بہت جلد معاشی اہداف حاصل کرے گی شہباز شریف کا عزم واقعی قابل تعریف ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں سیاسی استحکام پیدا کیا جائے حکومت اور اپوزیشن اپنے اختلافات ختم کریں کسی نہ کسی کو تو پہل کرنا ہو گی تند یہ ہے کہ حکومت پہل کرے سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں سیاسی استحکام کو یقینی بنائیں صدر آصف علی زرداری تمام سیاسی جماعتوں کو مذاکرات کی میز پر لائیں میثاق معیشت کو ممکن بنایا جائے تاکہ دم توڑتی ہوئی ملکی معیشت میں پھر سے جان پڑ سکے اسی میں ہم سب کی بھلائی کا راز مضمر ہے اگر ملک میں سیاسی استحکام نہ آیا تو معاشی استحکام کا خواب بھی ادھورا رہے گا…

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں