60

وزیراعظم ٹیکس شرح میں کمی لانے کیلئے پرعزم (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیکس نظام کاروبار میں رکاوٹ ہے تمام شعبوں میں ای گورننس کا نظام نافذ کریں گے آئی ایم ایف سے وعدے نبھائیں گے، وقت آنے پر خدا حافظ کہہ دیں گے’ معاشی ترقی کیلئے سب مل بیٹھنے کو تیار ہیں، تاجر نجکاری کیلئے ٹھوس تجاویز دیں، کراچی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ٹیکس شرح میں کمی لائیں گے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کراچی کے سرمایہ کاروں کو اسلام آباد آنے کی دعوت بھی دی پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقریب سے خطاب میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا شہباز شریف کی قیادت میں ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے جبکہ وزیرخزانہ نے کہا کہ سٹاک ایکسچینج میں تیزی سرمایہ کاروں کے اعتماد کا عکاس ہے اس موقع پر وزیراطلاعات ونشریات عطاء اﷲ تارڑ گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ بھی موجود تھے وزیراعظم نے کہا آنے والے وقت میں ٹیکس کی شرح میں کمی لائی جائے گی ٹیکس سلیب کم کرنے سے چوری بھی کم ہو گی انہوں نے کہا ایف بی آر اور کراچی پورٹ کے افسران کی خدمات قابل ستائش ہیں کسٹم میں جدید نظام متعارف کرانا بڑی کایابی ہے جدید خودکار نظام میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو گی جبکہ جدید نظام کے تحت کلیئرنس کا عمل 107 گھنٹے سے کم ہو کر 19 گھنٹے پر آ گیا ہے امپورٹرز کی 88فی صد تعداد نئے نظام سے مطمئن ہے حکومتی اقدامات کے باعث برآمدات میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی ہوئی ہے سرمایہ کاری بڑھانے کیلئے ٹیکس اصلاحات ناگزیر ہیں وقت آئے گا ہم آئی ایم ایف سے چھٹکارہ حاصل کر لیں گے کراچی کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہے اس سے بہترین فوائد حاصل کرنا وقت کا تقاضا ہے ہم نے ملک کو آگے لیکر جانا ہے ”اڑان پاکستان” پروگرام اس سلسلے کی کڑی ہے گزشتہ چھ ماہ کے دوران آئی ایم ایف کا ہدف جی ڈی پی کے تناسب سے 10.5 فی صد تھا لیکن ہم نے حاصل کر لیا ہے اور اب مزید رفتار بڑھانے کے لیے ہمیں بینکوں سے سرمائے اور قرضوں کی ضرورت ہے وزیراعظم نے کہا پالیسی ریٹ میں 22 فیصد سے 13 فیصد تک کمی پر خوشی ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا 9سال قبل لگایا جانے والا تمام اسٹاک مارکیٹوں کے انضمام کا پودا تناور درخت بن چکا ہے 2017ء میں سیاسی عدم استحکام کے باعث معیشت کا پہیہ رُک گیا تھا 2018ء میں اسٹاک مارکیٹ 100 ارب ڈالر تھی، وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ توانائی کے شعبہ میں اصلاحات پر عملدرآمد ہو رہا ہے سرکاری اخراجات میں کمی آئی پنشن کے نظام میں اصلاحات پر عملدرآمد شروع ہو چکا ہے قرضوں کی ادائیگی میں بہتری آئی،، فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ٹیکس نظام کو کاروبار میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تمام شعبوں میں ای گورننس کا نظام نافذ کریں گے انہوں نے ٹیکس شرح میں کمی لانے کے عزم کا بھی اظہار کیا ہے جس س اندازہ ہوتا ہے کہ وزیراعظم کاروباری طبقے کی مشکلات سے آگاہ ہیں اور بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ ہیں ای گورننس کے نفاذ کا اعلان وزیراعظم کے مصمم ارادوں کو ظاہر کرتا ہے بلاشبہ جب تک کاروباری طبقہ مطمئن نہیں ہو گا وہ ملکی ترقی اور معاشی استحکام میں کیسے حصہ ڈال سکے گا اس حوالے سے حکومت کو بزنس کمیونٹی کے ساتھ تعاون کی راہ نکالنی ہو گی وزیراعظم کی معاشی ٹیم ملکی معیشت کو مضبوط بنانے کیلئے پوری طرح متحرک ہے وفاقی حکومت کے اخراجات میں کمی کیلئے اہم اقدامات لائے جا چکے ہیں ڈیڑھ لاکھ خالی آسامیاں ختم کر دی گئی ہیں 80اداروں کو کم کر کے 40کر دیا گیا ہے مجموعی طور پر 43وزارتوں اور ان کے ماتحت اداروں میں رائٹ سائزنگ 30جون 2025ء تک مرحلہ وار مکمل کر لی جائے گی رائٹ سائزنگ کے پہلے تین مرحلے مکمل ہو گئے ہیں اور ان پر عملدرآمد جاری ہے اس کے نتیجہ میں 900 ارب روپے کے سالانہ حکومتی اخراجات میں کمی ہو گی یہ اخراجات ملکی ترقی میں بڑی رکاوٹ تھے، وزیراعظم نے بیرونی سرمایہ کاروں کو دعوت دینے کے ساتھ ساتھ ملک کے سرمایہ کاروں کو بھی سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے اور امید ہے کہ پاکستان ترقی کے اپنے چڑھتا جائے گا وزیراعظم کا ٹیکس شرح میں کمی لانے کا عزم کاروباری افراد کے لیے امید کی کرن ہے ٹیکس شرح میں کمی ہو گی تو کاروباری اداروں کے بہت سے مسائل حل ہوں گے اور ادارے کھل کر کام کر کے ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں