60

وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا راستہ بند (اداریہ)

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد وزیراعظم کو گھر بھیجنے کا راستہ بند ہو گیا ہے ماڈل ٹائون میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کے دوران مل کر چلنے پر اتفاق کیا گیا ملاقات میں پی پی وفد نے کہا کہ حکومتی پالیسیوں واقدامات پر مکمل اعتماد کا اظہار کرتے ہیں وزیراعظم نے کہا پیپلزپارٹی نے معیشت کو استحکام کیلئے حکومت کا ساتھ دیا پہلے بھی عوامی خدمت سے پیچھے نہیں ہٹے اب بھی نہیں ہٹیں گے ملکی معاشی اشاریے مثبت ہونے سے مہنگائی میں واضح کمی ہوتی نظر آ رہی ہے شہباز شریف نے واضح کہا کہ پیپلزپارٹی حکومت کی اہم اتحادی ہے اس نے ملکی معیشت کے استحکام کے لیے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا پیپلزپارٹی کے وفد کی حکومتی پالیسیوں اور اقدامات پر اعتماد کا خیرمقدم کیا پیپلزپارٹی اور (ن) لیگ نے 27ویں آئینی ترمیم کے لئے پارلیمنٹ کو متحرک کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا” بلاول بھٹو اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات خوش آئند ہے 26ویں آئینی ترمیم کے بعد 27آئینی ترمیم کے لیے پارلیمنٹ میں اکثریت کیلئے بھی تبادلہ خیال ہوا’ 26ویں آئینی ترمیم میں زیادہ تر حصہ جوڈیشری سے متعلق تھا آئندہ جو ترمیم پیش کرنے کا حکومت ارادہ رکھتی ہے اس کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں کہا جا سکتا، جسٹس یحییٰ آفریدی چیف جسٹس آف پاکستان بن چکے ہیں ان کے ماضی اور ان کی شہرت کے بارے میں سب جانتے ہیں لیکن ان کا اصل امتحان اب شروع ہوا ہے جس کا نتیجہ 3سال بعد نکلے گا، ججز نے سیاست بہت کر لی، آزادی اور نہ جھکنے والے’ نہ ڈرنے والے’ سچے یا جھوٹے تاثر کے تمغے بھی کچھ نے اپنے سینے پر سجا لئے اور کچھ یہ تمغے اپنے سینوں پر سجانے کیلئے سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں نئے چیف جسٹس سے درخواست ہے کہ عدلیہ کو اپنے اصل کام یعنی عوام کو جلد اور سستا انصاف دینے پر بھی لگا دیں اب ٹی وی چینل کے ٹکرز اور بریکنگ نیوز بھول کر اس ملک کے عوام کو انصاف دیں لاکھوں مقدمات جو عدالتوں میں سال ہا سال اور دہائیوں سے پڑے ہیں ان کا فیصلہ کریں لوگ جو کورٹ کچہری کا نام سن کر ڈرتے ہیں ان کا پاکستان کے عدالتی نظام پر اعتماد بحال کریں قوم کو ایسے معزز ججز چاہئیں جو عوام کو جلد انصاف دے سکیں یہ وہ اصل چیلنج ہے جس کا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو سامنا ہے عدالتی نظام سے عوام بہت مایوس ہے جبکہ دنیا بھر میں ہماری عدلیہ آخری نمبروں پر آتی ہے جس کا مطلب ہے کہ ہمارا حال بہت بُرا ہے، کچھ عرصہ سے ہماری اعلیٰ عدلیہ خصوصاً سپریم کورٹ بہت بُری طرح سے تقسیم ہے جج سیاست دانوں سے زیادہ سیاسی بن چکے ہیں چیف جسٹس آفریدی کا یہ بھی چیلنج ہو گا کہ وہ کس طرح ججوں کو سیاست سے پاک کرتے ہیں چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کو سوچنا چاہیے تاکہ ہماری عدالتوں میں منصفوں کی جگہ کوئی سیاستدان نہ بیٹھا ہو، اس وقت نظام عدل کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے جب تک اس بارے سب متحد ہو کر کام نہیں کرینگے اس وقت تک اصلاح ممکن نہیں ہمیں اس پہلو کو ضرور دیکھنا چاہیے، 26ویں آئینی ترمیم کے بعد حکومت کے عزائم ظاہر ہو گئے ہیں کہ وہ آئین کی بالادستی یقینی بنانے اور ملک میں سیاسی استحکام کیلئے سنجیدہ ہے اور سیاسی افراتفری کے حوالے سے ایک ایسا عدالتی نظام چاہتی ہے جو سیاسی عدم استحکام کو کم کرنے میں فائدہ مند ثابت ہو آئینی عدالت کے قیام کا مقصد یہ ہے کہ سیاسی معاملات آئینی عدالتوں میں دائر کئے جائیں اور وہ ہی ان کا فیصلہ کرے جہاں تک 26ویں ترمیم کا تعلق ہے تو یہ اکثریت سے پاس کی گئی ہے اب اتحادی حکومت 27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے بھی متحرک ہے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کیلئے سیاسی ملاقاتیں کی جا رہی ہیں چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے پارٹی کے وفد کے ہمراہ وزیراعظم سے ملاقات کی اور عندیہ دیا ہے کہ 27ویں ترمیم کے لیے بھی پیپلزپارٹی حکومت کے ساتھ ہو گی پیپلزپارٹی کی بھرپور حمایت کے عد دیگر اتحادی جماعتیں بھی یقینا حکومت کا ساتھ دیں گی کیونکہ ملک میں سیاسی عدم استحکام کے خاتمہ کے بغیر ملک میں پائے جانے والے بحرانوں پر قابو پانا دشوار ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جن سے ملک میں سیاسی استحکام ہو ملک میں معیشت کو سنبھالا ملے غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں