75

وزیراعظمIMF کی شرائط پوری کرنے کیلئے پُرعزم (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط بروقت پوری کرینگے، مہنگائی کا بوجھ آہستہ آہستہ کم ہو رہا ہے ہمیں معیشت میں مزید استحکام لانا ہے روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہماری اولین ترجیح ہے آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارا آخری پروگرام ہونا چاہیے گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیراعظم نے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہماری کوشش ہے کہ معیشت مستحکم ہو مہنگائی کم ہو’ جبکہ وزیرخزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی معیشت کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاشی استحکام کے حوالے سے ہم جس سفر پر نکلے تھے اس کے حقیقی ثمرات آنا شروع ہو گئے ہیں زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 2ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں کرنسی مستحکم ہے افراط زر کی شرح 23.7 فی صد تھی جو کم ہو کر 9.6 فی صد ہو گئی ہے پالیسی ریٹ میں بتدریج کمی آ رہی ہے جس سے معیشت کو مدد مل رہی ہے پالیسی ریٹ میں کمی سے صنعتوں اور دیگر شعبوں کو بہت فائدہ پہنچے گا جولائی میں ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا فیچ اور موڈیز نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری کی نوید دی ہے جو ملکی معیشت پر عالمی اداروں کے اعتماد کا مظہر ہے وزیر خزانہ نے کہا گزشتہ سال ایف بی آر کی محصولات میں 29فی صد اضافہ ہوا مگر اس کے باوجود قومی پیداوار کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح 8.8 فی صد کے قریب تھی کوئی بھی ملک اس شرح کے ساتھ پائیدار بنیادوں پر آگے نہیں بڑھ سکتا انہوں نے کہا کہ ہول سیلرز ڈسٹری بیوٹرز اور ریٹیلرز پر ٹیکس کے حوالے سے اقدامات واپس نہیں ہوں گے اگر یہ اقدامات واپس کئے گئے تو وہ طبقات بھی نالاں ہوں گے جو پہلے سے زیادہ ٹیکس دے رہے ہین اس کے لیے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہو گا وزیر خزانہ نے کہا رائٹ سائزنگ کمیٹی نے 6وزارتوں کو لیکر گئے تھے جس میں 2وزارتیں ختم ہونی ہیں وزارتیں ضم ہونے سے افسران کی تعداد میں کمی آئے گی سول سروس ایکٹ میں ترمیم کے لیے اتحادی جماعتوں سے بھی مشاورت کر رہے ہیں،، وزیراعظم اور وزیرخزانہ نے معاشی استحکام کے حوالے سے اپنا خیال اور ارادہ ظاہر کیا ہے وزیراعظم آئی ایم کی شرائط پوری کرنے کیلئے پُرعزم ہیں اور وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب حکومتی اخراجات میں کمی کے لیے اپنی تمام تر کوششوں میں مصروف ہیں وفاقی وزارتوں کی تعداد میں کمی رائٹ سائزنگ جیسے اقدامات پر کابینہ کے فیصلے کے تحت عملدرآمد کیا جا رہا ہے کئی وزارتوں کو دیگر وزارتوں میں ضم کرنے کا فیصلہ ہو چکا ہے اسلام آباد میں سرکاری اداروں کے افسران اور سٹاف میں بے چینی کی فضاء چھائی ہے ہر سرکاری ملازم فکرمند ہے کہ اس کے روزگار کا کیا بنے گا اس کا مستقبل کیا ہو گا ادارے سے فارغ کرنے کے بعد اس کی زندگی کیسے گزرے گی اسکی فیملی کا کیا مستقبل ہو گا حکومت تو چاہتی ہے کہ اس کے اخراجات میں کمی ہو بیرونی قرضے ادائیگی میں آسانی ہو اور ملکی نظام چلانے کیلئے مزید قرض نہ لینا نہ پڑے شائد اسی بناء پر وزارتوں میں کمی اور رائٹ سائزنگ کا سہارا لیا جا رہا ہے دوسری جانب یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب ہزاروں کی تعداد میں سرکاری اہلکار بے روزگار ہوں گے تو ان کے مسائل بھی حکومت کیلئے دردسر ہوں گے ان کے گھروں کے چولہے کیسے چلیں گے حکومت لاکھ تسلیاں دے مگر ایک دفعہ سرکاری اہلکار ادارہ سے فارغ ہو جائے تو اس کا اکا موڈیٹ ہونا مشکل ہو جاتا ہے حکومت کی جانب سے معاشی ریٹنگ اور مہنگائی میں کمی کے اعداد وشمار بے شک درست ہو سکتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی اب بھی پورے عروج پر ہے ہر شے عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے آسامیاں ختم کرنے اور سرکاری ملازمین کو انکی ملازمتوں سے فارغ کرنے سے بے روزگاری میں مزید اضافہ ہو گا، لہٰذا بہتر یہی ہے کہ حکومت ایسی پالیسیاں بنائے جن سے عوام مطمئن ہو اگر مسئلے کا حل نہ نکالا گیا تو حکومت کے لیے نئے مسائل جنم لے سکتے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کو قربانی کا بکرا بنانے کے بجائے اشرافیہ کی مراعات ختم اور ان سے انکی مالی حیثیت کے مطابق ٹیکس وصول کئے جائیں مختلف اداروں کے ملازمین کو بجلی’ گیس کی مفت فراہمی بند کر کے ان سے صرف شدہ بجلی کے واجبات وصول کئے جائیں وزراء اور مشیروں کے پروٹوکول کو ختم کی جائے تاکہ درجنوں گاڑیوں کے فیول اور ڈرائیورز سمیت دیگر سٹاف کے اخراجات میں بھی کمی واقع ہو سکے وزیراعظم شہباز شریف اگر چاہتے ہیں کہ پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس نہ جانا پڑے تو صرف زبانی کلامی باتوں سے ایسا ممکن نہیں ہو گا عملی کام کر کے ہی کامیابی ممکن ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں