ٹرمپ شہباز ملاقات،امریکی صدر غزہ معاہدے کیلئے سرگرم

نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایک سخت گیر خطاب کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سمیت مسلمان حکمرانوں سے ملاقات کی، تاکہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کے لیے اپنا منصوبہ پیش کر سکیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر ہوئی جس میں پاکستان، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے رہنمائوں نے شرکت کی۔ملاقات سے قبل مسلم رہنمائوں سے براہِ راست خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہمیں یرغمالیوں کو واپس لانا ہے، یہ وہ گروہ ہے جو دنیا کے کسی اور گروپ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے، اس لیے آپ کے ساتھ موجودگی میرے لیے اعزاز ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے یہاں 32ملاقاتیں کیں، مگر یہ ایک بہت اہم ہے کیونکہ ہم ایک ایسی چیز کو ختم کرنے جا رہے ہیں جو شاید کبھی شروع ہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اس اہم وقت میں اتنی اہم ملاقات کی میزبانی کرنے پر ہم آپ کے مشکور ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم یہاں صرف اس جنگ کو روکنے اور قیدیوں کو واپس لانے کے لیے آئے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم آپ کی قیادت پر بھی انحصار کرتے ہیں کہ آپ اس جنگ کو ختم کریں اور غزہ کے عوام کی مدد کریں۔ وائٹ ہائوس کے مطابق ٹرمپ کا منصوبہ غزہ سے اسرائیلی افواج کے بتدریج انخلا، علاقائی امن فوج کی تعیناتی، اور متاثرہ علاقے کے لیے ایک بین الاقوامی حمایت یافتہ انتقالی اور تعمیر نو کے عمل پر مشتمل ہے۔ سفارتی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ اگرچہ یہ منصوبہ اسرائیل نے تیار نہیں کیا، مگر وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو اس کی خاکہ بندی سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی (پی اے) کا کردار شامل ہے لیکن حماس کا نہیں، جسے واشنگٹن اور تل ابیب دونوں ختم کرنے پر زور دیتے ہیں۔ رپورٹ کیا کہ امریکا چاہتا ہے کہ عرب اور مسلم ممالک غزہ میں فوجی دستے بھیجنے پر متفق ہوں، تاکہ اسرائیل کے انخلا کو ممکن بنایا جا سکے اور تعمیر نو کے پروگرام کے لیے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔کثیرالجہتی اجلاس سے قبل وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بتایا کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تنازع کا مستقل حل صرف ایک مذاکراتی تصفیہ ہی ہو سکتا ہے۔ انہوں نے ممکنہ معاہدے کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایسا ہوگا جس میں فلسطینیوں کے پاس اپنی زمین ہوگی اور وہ اس پر حکومت کریں گے، لیکن یہ کسی صورت اسرائیل پر حملوں کے لیے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں ہو سکتی۔میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کثیرالجہتی ملاقات کو غزہ میں تنازع ختم کرنے، تمام باقی قیدیوں کی رہائی اور ایک انسانی امدادی پروگرام شروع کرنے کا آخری موقع قرار دیا۔دریں اثنائ۔نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوئی۔وزیراعظم محمد شہبازشریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور خوشگوار ماحول میں غیر رسمی گفتگو کی، ملاقات میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی موجود تھے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے وزیراعظم شہبازشریف کی کل باضابطہ ملاقات طے پاگئی، ملاقات میں اعلی سیاسی و دیگر اہم شخصیات بھی شریک ہوں گی، وزیراعظم آج نیویارک سے واشنگٹن روانہ ہوں گے۔واضح رہے کہ وزیراعظم محمد شہبازشریف نے نیویارک میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکی صدر امن کے داعی ہیں، ڈونلڈٹرمپ دنیا بھر میں امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔وزیراعظم محمد شہبازشریف نے کہا تھا کہ صدرٹرمپ نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں امن کیلئے کوششوں کا تذکرہ کیا، پاک بھارت جنگ بندی میں صدر ٹرمپ اور ان کی ٹیم کا اہم کردار ہے، صدر ٹرمپ کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں