ٹرمپ کا سعودی ولی عہد سے رابطہ،حمایت کا اعادہ

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ایران میں کون احکامات جاری کر رہا ہے۔امریکی ٹی وی کو ٹیلیفونک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ وہ جانتے ہیں کہ ایران میں اب کون ہے جو موثر انداز سے احکامات جاری کررہا ہے،تاہم امریکی صدر نے ان ایرانی رہنما کا نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ایک سوال پر کہ آیا ایران میں اب جو شخص احکامات جاری کررہا ہے اسے وہ ایران کی قیادت کرتا دیکھنا چاہتے ہیں اس پر صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ہاں میرے خیال میں ایسا ہی ہے، کچھ اچھے امیدوار ہیں۔ خیال رہے کہ ایرانی سرکاری میڈیا نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے شہید ہونے کی تصدیق کردی ہے ۔دریں اثنائ۔واشنگٹن /ریاض(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہکیا اور سعودی عرب پر ایرانی میزائل حملوں کی مذمت کی۔وائٹ ہائوس کے مطابق صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کی خودمختاری اور سلامتی کے لیے مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی خلاف ورزیاں خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے شامی صدر احمد الشرع سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی۔ احمد الشرع نے سعودی عرب کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شام سعودی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کو مسترد کرتا ہے۔ادھر خبر ایجنسی رائٹرز کے مطابق شمالی عراق میں اربیل ائرپورٹ کے قریب ایک ڈرون گر کر تباہ ہوگیا، جس کے بعد علاقے سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا۔ واقعے کی وجوہات اور ممکنہ نقصان سے متعلق فوری طور پر تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔خطے میں حالیہ پیش رفت کے بعد مشرقِ وسطی میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں