1

ٹرمپ کی مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کر دی غیر ملکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہائوس کے عہدیدار نے بتایا کہ صدر ٹرمپ مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ مغربی کنارے میں استحکام سے اسرائیل محفوظ رہے گا۔وائٹ ہائوس عہدیدار کا کہنا تھا کہ فلسطینی علاقوں میں استحکام خطے میں قیام امن کے امریکی ہدف کے مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ مشرق وسطی میں امن کیلئے جاری کوششوں کو کامیاب بنانے کیلئے مغربی کنارے کے استحکام کو ضروری سمجھتی ہے۔دوسری جانب برطانوی حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مغربی کنارے پر قبضے کو وسعت دینے کے اسرائیلی کابینہ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہیں، فلسطین کی جغرافیائی ساخت کو یکطرفہ طور پر تبدیل کرنے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ ایسی کوئی بھی کوشش بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہوگی، اسرائیل سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ان فیصلوں کو فوری طور پر واپس لے۔ادھر پاکستان سمیت 8 مسلم ممالک نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اسرائیل کو خطرناک اقدامات روکنے کا مطالبہ کر دیا۔مسلم ممالک کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کوئی حقِ خودمختاری نہیں اور یہ اقدامات مغربی کنارے کے غیر قانونی الحاق اور فلسطینی عوام کی بے دخلی کی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں۔دریں اثنائ۔کینبرا (مانیٹرنگ ڈیسک) آسٹریلیا میں اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کے دورے کے خلاف ہونے والا احتجاج گزشتہ روز تشدد کا رخ اختیار کر گیا، جس کے بعد سڈنی پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور مرچوں والا اسپرے استعمال کیا۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق احتجاج میں ہزاروں افراد شریک تھے۔رپورٹس کے مطابق اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ کا چار روزہ دورہ آسٹریلیا کی یہودی برادری سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھا، خاص طور پر دسمبر میں سڈنی کے بونڈی بیچ پر حنوکہ کی تقریب کے دوران ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے بعد۔ تاہم ان کے دورے پر سڈنی اور میلبورن میں بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔سڈنی کے مرکزی کاروباری علاقے میں ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے، جہاں فلسطین کے حق میں نعرے لگائے گئے اور تقاریر کی گئیں۔ مظاہرین کا موقف تھا کہ اسرائیلی صدر غزہ میں شہری ہلاکتوں کے ذمہ دار ہیں۔ احتجاج کے دوران پولیس کی بھاری نفری، گھڑ سوار اہلکار اور ہیلی کاپٹر بھی تعینات رہے۔پولیس کے مطابق جب مظاہرین نے آگے بڑھنے اور رکاوٹیں توڑنے کی کوشش کی تو حالات کشیدہ ہو گئے، جس پر آنسو گیس اور مرچوں والا اسپرے استعمال کیا گیا اور متعدد افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ فلسطین ایکشن گروپ کے ترجمان نے الزام عائد کیا کہ پولیس نے بار بار گھوڑوں اور اسپرے کے ذریعے مظاہرین کو پیچھے دھکیلا۔اسی دوران میلبورن کے وسطی علاقے میں بھی ہزاروں افراد نے فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ نیو ساتھ ویلز کی ریاستی حکومت نے احتجاج سے قبل پولیس کو مظاہروں پر قابو پانے کے لیے اضافی اختیارات بھی دے رکھے تھے۔ادھر اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے احتجاجی مقامات سے کچھ فاصلے پر ایک تقریب میں شرکت کی اور بونڈی بیچ واقعے کے متاثرین کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اقوام متحدہ کے ایک تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے ماضی میں اسرائیلی صدر کے بعض بیانات پر بھی تنقید کی جا چکی ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں