ٹرین کی چھتیں خم دار ہونے کے فوائد

کراچی (بیو رو چیف )ہم میں سے زیادہ تر لوگوں نے ٹرین کا سفر تو کیا ہوگا کیوں کہ ٹرین کا سفر نہ صرف یادگار ہوتا ہے بلکہ بجٹ پر بھی گراں نہیں گزرتا۔ لیکن کیا آپ نے ٹرین کو دیکھ کر کبھی یہ سوچا ہے کہ ان ٹرینوں کی چھتیں مڑی ہوئی یا گولائی میں کیوں بنائی جاتی ہیں ؟ آئیے آج کی اس رپورٹ میں ان خم دار چھتوں کی چند حیران کن وجوہات پر روشنی ڈالتے ہیں۔فرض کریں کہ اگر ٹرین کی چھتیں خم دار ہونے کے بجائے سیدھی ہوتیں تو موسلا دھا بارش کا پانی ان چھتوں سے بہنے کے بجائے ٹرین کے اوپر چھوٹا سا سوئمنگ پول بنالیتا، یہی وجہ ہے کہ ان چھتوں کو مڑی ہوئی یعنی خم دار شکل دی گئی تاکہ چھتوں کی یہ شکل بارش اور برف کو ٹرین پر جمع ہونے سے روکے اور آسانی سے پھسلنے دے۔اگر آپ کبھی چلتی گاڑی سے اپنا ہاتھ باہر نکالیں تو یقینا آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ ہوا آپ کے ہاتھ کو پیچھے دھکیل کر گزرتی ہے، یہی صورتحال ٹرینوں کی ہے، ٹرینوں کی خم دار چھتیں ٹرین پر ہوا کی مزاحمت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں اور ایندھن کی کارکردگی کو بہتر بناتی ہے۔انجینئرز اور آرکٹیکچرز کے مطابق خم دار یا منحنی (curve ) خطوط سیدھے (flat ) سطحوں سے زیادہ مضبوط ہوتے ہیں، ایک خم دار چھت زیادہ بہتر انداز میں ہوا کے دبا کو تقسیم کرتی ہے، یہ صورتحال ٹرین کو تیز ہواں یا گزرگاہوں پر لگے بجلی کے پول کے پاس سے گزرتے ہوئے دبا کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ٹرین کی محراب نما چھتیں ٹرین کے اندرونی حصے کو زیادہ کشادہ اور آرام دہ بنانے کیلئے بھی سود مند ہیں، محراب نما چھت ٹرین کی چوڑائی میں اضافہ کیے بغیر اضافی ہیڈ روم فراہم کرتی ہے۔انجینئرز کے مطابق خم دار چھتوں والی ٹرینیں گرمیوں یا سرد راتوں میں درجہ حرارت کو تقسیم کرنے میں زیادہ مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں