ٹوبہ میں باٹ،کنڈوں میں ردوبدل کے ذریعے تول میں کمی کا رحجان بڑھ گیا

ٹوبہ ٹیک سنگھ (نامہ نگار) اوزان و پیمائش ڈیپارٹمنٹ کی غفلت کے باعث شہر اور گرد و نواح میں دکانداروں کی جانب سے باٹ اور کنڈوں میں رد و بدل کے ذریعے ناپ تول میں کمی کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام کی جانب سے چیکنگ کا موثر نظام نہ ہونے کی وجہ سے اکثر دکاندار، قصاب اور سبزی و فروٹ فروش تصدیق شدہ باٹ استعمال نہیں کر رہے بلکہ اپنے کنڈوں اور باٹ میں غیر معمولی رد و بدل کر کے شہریوں کو دھوکہ دے رہے ہیں، جبکہ بعض مقامات پر خود ساختہ پتھر کے باٹ بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔ جدید دور میں بھی الیکٹرانک یا محکمہ اوزان و پیمائش سے منظور شدہ آلات کے بجائے سالوں پرانے کنڈے اور کم وزن باٹ استعمال کرنا معمول بن چکا ہے جس کے باعث صارفین کو ادا کی گئی قیمت کے تناسب سے کم مقدار میں اشیا دی جا رہی ہیں۔ اسی طرح غلہ منڈی میں بھی کنڈوں میں ہیرا پھیری کے ذریعے کسانوں سے اجناس کم وزن پر خریدی جا رہی ہیں جس سے انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ عوامی حلقوں نے اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمانہ فرائض میں غفلت کے مرتکب اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور کنڈوں و باٹ کی باقاعدہ اور مثر چیکنگ کا نظام نافذ کیا جائے تاکہ شہریوں اور کسانوں کو ناپ تول کی دھوکہ دہی سے محفوظ رکھا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں