ٹک ٹاک کو مہلت مل گئی دوسری بار پابندی موخر

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی شارٹ ویڈیو شیئرنگ ایپ ٹک ٹاک پر مجوزہ پابندی کو ایک بار پھر موخر کرتے ہوئے اس کی مدت میں 75دن کی مزید توسیع کر دی ۔ ٹک ٹاک کو دی گئی ابتدائی 75دن کی مہلت 5اپریل کو ختم ہو رہی تھی تاہم صدر ٹرمپ نے اس مدت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ تاحال ٹک ٹاک کی فروخت سے متعلق معاہدہ مکمل نہیں ہو سکا،اس لیے پابندی کی مدت میں مزید 75دن کی مہلت دی جا رہی ہے،اب اس نئی توسیع کے بعد ٹک ٹاک کو جون کے وسط تک مہلت دی گئی ہے، جس دوران اسے لازمی طور پر اپنی امریکی سروسز کسی امریکی شہری یا کمپنی کو فروخت کرنا ہوں گی، بصورت دیگر، ایپلی کیشن کو امریکہ میں بند کر دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ امریکی حکومت نے قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے پیش نظر ایک قانون منظور کیا ہے، جس کے تحت ٹک ٹاک کو امریکہ میں کام جاری رکھنے کے لیے اپنے مقامی آپریشنز کسی امریکی ادارے کو منتقل کرنے ہوں گے۔ یہ قانون 20جنوری 2025سے نافذ العمل ہے۔ صدر ٹرمپ نے اس قانون کے نفاذ کے فورا بعد ٹک ٹاک پر پابندی کے فیصلے کو 75 دن کے لیے موخر کیا تھا، جس کی مدت اب دوبارہ اتنی ہی مدت کے لیے بڑھا دی گئی ہے۔ دوسری جانب ٹک ٹاک کو دی گئی مہلت ختم ہونے سے محض دو روز قبل، ایمازون، اونلی فینز سمیت متعدد معروف امریکی کمپنیوں نے ٹک ٹاک کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ دستاویزات وائٹ ہاس کو ارسال کر دی ہیں، فی الوقت وائٹ ہائوس کی جانب سے کوئی باضابطہ اعلان یا عندیہ نہیں دیا گیا ہے کہ ٹک ٹاک کی خرید و فروخت کا عمل کسی حتمی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں