ٹیرف بارے امریکی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) سینئر سیاستدان اورسابق وفاقی پارلیما نی سیکرٹری رانا زاہد توصیف نے امر یکہ کی سپریم کورٹ کے اس احسن فیصلہ کا خیر مقدم کیا ہے کہ جس کے تحت امریکی عدالت عظمی نے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اپنی مرضی سے جو ٹیرف عائد کیے تھے۔ اس کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔ یقینی طور پر اس سے ایک طرف انصاف کا بول بالا ہوا ہے تو دوسری طرف اب ہر ایک پر 10 فیصد یکساں ٹیرف لاگو کر دیا گیا ہے۔ عدالتی حکم نامہ کا ایک فائدہ یہ ہوگا کہ امریکہ میں مہنگائی کم ہو گی، معیشت بہتر ہوگی، نیز دنیا میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ بھی ہوگا۔ کیونکہ مرضی کے ٹیرف لگائے جانے سے خیال کیا جاتا تھا کہ کس ملک کی مصنوعات امریکہ ایکسپورٹ ہوگی اور کس کی نہیں ہوگی مگر اب معاملہ برابری کی سطح پر آگیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ جس ملک میں عدالتیں آزاد ہوں۔ اور فیصلے کسی بھی طاقت، عہدہ یا دبا کی پرواہ کیے بغیر انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں۔ وہ ملک کبھی خرابی معاشی ابتری غربت اور لاقانونیت کی طرف نہیں جا سکتا اور نہ ہی عوام کی زندگیوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں چنانچہ امریکی سپریم کورٹ کا صدر ٹرمپ یا دوسری اتھارٹی کے دبا کے بغیر درست فیصلہ احسن کارنامہ ہے امریکی عدالت عظمی کا فیصلہ دیگر ممالک کے لیے باعث تقلید بھی ہے انہوں نے کہا کہ اگر پارلیمنٹ ایسے قوانین بناتی ہے کہ جس کے ملک پر منفی اثرات مرتب ہو تو سپریم کورٹ کو اس بارے میں دیکھنا چاہیے اگر پاکستان میں بھی میرٹ پر فیصلے ہوں گے تو ہمارے ملک میں انصاف کا بول بالا ہوگا تو وطن عزیز ہر لحاظ سے ترقی کی راہ پر گامزن ہوگا۔ ہر سطح پر خوشحالی کے راستے کھلیں گے عوامی محرومیوں مایوسی ناانصافی کا خاتمہ ھوگا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں