38

ٹیکس قوانین: کاروباری برادری کے تحفظات دور کئے جائیں (اداریہ)

وزیراعظم نے کہا ہے کہ ایف بی آر کو بہتر کام کرنا ہو گا حکومت مکمل اقتصادی بحالی کیلئے دیرینہ اصلاحات ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں اور میرٹ پر مبنی نظام کو ترجیح دینے کیلئے افسران کو گھر بھیجا جن کے حق میں ملک بھر سے سفارشیں آئیں اسلام آباد میں اڑان پاکستان سمر اسکالرز انٹرن شپ پروگرام کے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ملک میں ایسی تبدیلی ابھی ہوئی بھی نہیں اور سفارش آنا شروع ہو جاتی ہیں وزیراعظم نے کہا ہم نے میرٹ پر فیصلے کئے ایف بی آر میں بہترین افسران کی تعیناتی کے لیے ماہرین اور بیوروکریسی کے ساتھ مسلسل اجلاس کئے اور ہر ہفتے اصلاحات کے لیے خود اجلاس کی صدارت کی وزیراعظم نے کہا ملک سے کرپشن اور سفارش کلچر ختم کرنے کیلئے میرٹ اور شفافیت کو فروغ دیا ایف بی آر میں ڈیجیٹلائزیشن نے حقیقت کا روپ دھار لیا ہے انفورسمنٹ سے صرف ایک شعبے میں محاصل 12 سے بڑھ کر 50ارب روپے ہو گئے حکومت کے مؤثر اقدامات سے اقتصادی شعبے کے اشاریے بہتر ہوئے، پالیسی ریٹ کم ہو کر 11فی صد کرنے سے لوگ بینکوں سے پیسہ نکال کر سرمایہ کاری کریں گے،، وزیراعظم شہباز شریف ملک میں ٹیکس نظام کو درست سمت میں گامزن کرنے اور محاصل میں اضافہ کیلئے کوشاں ہیں بلاشبہ وزیراعظم کی معاشی ٹیم کی شبانہ روز کوششوں اور ایف بی آر میں اصلاحات کے نتیجہ میں ملک میں محاصل میں پہلے سے زیادہ بہتری دیکھی جا رہی ہے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی پالیسیوں کے مثبت اثرات سامنے آ رہے ہیں تاہم تاجروں کاروباری لوگوں کیلئے 37-AA قوانین لاگو ہونے سے کاروباری افراد میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے جس کا اگر بروقت حل نہ نکالا تو تاجر وکاروباری افراد سڑکوں پر آ سکتے ہیں جس سے ایک بار ملک میں افراتفری کا سا سماں پیدا ہو سکتا ہے جو کسی صورت بھی ملکی مفاد میں نہیں ہو گا! پاکستان میں ٹیکس دھندگان کو ہمیشہ ریاستی نظام کا مالی معاون سمجھا جاتا رہا ہے لیکن حالیہ قانون سازی نے اس تصور کو یکسر بدل دیا ہے 37-AA اور 37-A جیسے جابرانہ قانون نے کاروباری برادری کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے جہاں وہ خود سے یہ سوال کرنے پر مجبور ہیں: کیا ہم ریاست کے وفادار ہیں یا مشتبہ مجرم کیونکہ 37-AA ایف بی آر کو انتہائی وسیع اختیار دیتا ہے اس میں ٹیکس دہندہ کو شواہد کے بغیر ہی شک کی بنیاد پر گرفتار کرنے، بینک اکائونٹس منجمند کرنے اور کاروباری مقامات پر حکام کو تعینات کرنے کا اختیار شامل ہے یہ قانون ایسی صورت میں پیش کیا گیا جب حکومت ٹیکس وصولی کے اہداف پورے کرنے کے دبائو میں ہے اور ایف بی آر نے ٹیکس فراڈ کی روک تھام کیلئے پہلے ہی سخت اقدامات مثلاً ای انوائسنگ’ ای بلٹی اور زیادتی سے متاثر ہونیوالے کے خلاف سخت کارروائیاں شروع کی ہیں جس کی وجہ سے تجارتی برادری کا شدید ردّعمل ملک کے طول وعرض سامنے آیا ہے مختلف چیمبر آف کامرس کے ذمہ داروں سے 37-A اور 37-AA کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اگر اس کو واپس نہ لیا گیا تو ملک گیر احتجاج کیا جائے گا تاجر برادری کا کہنا ہے کہ ایف بی آر کے پاس پہلے ہی سروس اکائونٹس منجمند کرنے اور مقامات کو سیل کرنے کے اختیارات تھے اب گرفتاری کا اختیار ملنے سے ہی یہ ایجنسی پولیس یا عدالتی ادارے کی جگہ لے سکتی ہے حالیہ وفاقی بجٹ 2025-26 میں انکم ٹیکس آرڈیننس میں شامل کیا گیا سیکشن 37-AA کے معاشی وکاروباری سطح پر جو اثرات مرتب ہوں گے ان میں سرفہرست سرمایہ کاری میں زوال بین الاقوامی اور مقامی سرمایہ کار خوفزدہ رہیں گے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت موجودہ صورتحال میں ٹیکس دہندگان کیلئے قابل قبول حل تلاش کرے تاکہ کاروباری برادری میں پھیلی ہوئی بے چینی کو دور کیا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں