ٹیکس لاز کے ترمیمی آرڈیننس کو مسترد کرتے ہیں

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری اور شہر کی تمام صنعتی، تجارتی اور کاروباری تنظیموں نے ٹیکس لاز کے ترمیمی آرڈیننس مجریہ 2025 کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ اس کی باضابطہ واپسی کیلئے اعلیٰ حکومتی ارکان سے فوری طور پر ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جا ئے گا۔ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری کے صدر ریحان نسیم بھراڑہ نے نئے ترمیمی آرڈیننس کی مختلف شقوں پر اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور کہا کہ اختلافات کو طے کرنے کا واحد ذریعہ مذاکرات ہیں اور ہمیں اس پر عمل کرنا چاہیے۔ تاہم اس مقصد کے حصول کیلئے باہمی اتحاد ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی حالات جب بھی بہتر ہونے لگتے ہیں کوئی نہ کوئی ایسا قدم اٹھایاجاتا ہے جس سے حالات دوبارہ بگڑنے لگتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ ایک طرف حکومت ایف بی آر اور ٹیکس دہندگان میں براہ راست رابطوں کو کم کرنے کیلئے ڈیجیٹلائزیشن اور فیس لیس (Faceless) نظام متعارف کرا رہی ہے جبکہ دوسری طرف اس قسم کے یک طرفہ آرڈیننس جاری کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس پر بھی مشاورت نہیں کی گئی جسکی وجہ سے اس کا انجام اچھا نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس آرڈیننس پر نظر ثانی کیلئے حکومت اور چیمبرز پر مشتمل مشاورتی کمیٹی قائم کی جائے ۔وہ حکومتی پالیسیوں کے معترف ہیں جن کی وجہ سے پالیسی ریٹ اور افراط زر میں واضح کمی آئی۔ اسی طرح برآمدات اور ترسیلات زر میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ ان حقائق کے پیش نظر توقع تھی کہ پالیسی ریٹ میں کم از کم 4فیصد کی کمی کی جائے گی مگر صرف ایک فیصد کی کمی کی گئی ہے ۔ تقریب سے خواجہ شاہد رزاق سکا، رانا احتشام جاوید ، بائو اکرم ، حاجی محمد اسلم بھلی، وحید خالق رامے، میاں تنویر احمد، شاہد مجید ، لالہ معین، چوہدری طلعت محمود ، مزمل سلطان، اشرف مغل، نصیر وہرہ ، طارق محمود قادری، اشفاق اشرف، محمد محسن ، شیخ محمد عاصم اور آفتاب بٹ سمیت مختلف تاجر تنظیموںکے نمائندوں نے خطاب کیا اور اس آرڈیننس کے خلاف چیمبر کے شانہ بشانہ مل کر جدوجہد کرنے کے عزم کا اعلان کیا۔ آخر میں سینئر نائب صدر قیصر شمس گچھا نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں