49

ٹیکس میں اضافہ کیلئے مالیاتی شفافیت ناگزیر قرار (اداریہ)

وفاقی وزیر خزانہ وریونیو محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکس محصولات میں اضافے کیلئے مالیاتی شفافیت اور دستاویزات کے نظام کو مضبوط بنانا ناگزیر ہے پاکستان کا مالیاتی نظام بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنے سے نہ صرف مقامی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بڑھے گا، حکومت پالیسیوں میں تسلسل کو یقینی بنا کر پائیدار ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے’ وزارت خزانہ کے مطابق ان خیالات کا اظہار وزیرخزانہ نے گزشتہ روز خزانہ ڈویژن میں ملاقات کے لیے آئے بین الاقوامی اکائونٹنگ اسٹینڈرڈ بورڈ کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا وفد کی قیادت چیئرمین ڈاکٹر اینڈریاس کر رہے تھے وفد میں آئی اے ایس بی کے رکن جنکیائولو’ انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹس آف پاکستان کے صدر فرح رحمان اور ایشیا اوشیانا اکائونٹنگ اسٹینڈرڈ گروپ کے چیئرمین رانا عثمان خان شامل تھے اس ملاقات میں ریفارمرز اینڈ ریسورس موبلائزیشن کمیشن کے چیئرمین اشفاق تولہ اور وزارت خزانہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک تھے،، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے جب سے وزارت خزانہ کا چارج سنبھالا ہے اور ایف بی آر میں اصلاحات کرنے کا بیڑہ اٹھایا ہے تب سے ایف بی آر کی کارکردگی میں بتدریج اضافہ نوٹ کیا جا رہا ہے اور ٹیکس نیٹ میں متواتر اضافہ ہو رہا ہے ٹیکس ریونیو میں بھی اضافہ ہو رہا ہے فائلرز کی تعداد بڑھ رہی ہے گزشتہ سالوں کی نسبت ریونیو میں اچھا خاصا اضافہ ہوا ہے جو خوش آئند ہے محمد اورنگ زیب ایک تجربہ کار اور مالیاتی ماہر ہیں ان کے اقدامات سے ان کے تجربات کی جھلک دکھائی دیتی ہے گزشتہ دنوں انہوں نے اہم معاملات بارے وزارت خزانہ میں ایک وفد سے ملاقات میں ٹیکس محصولات میں اضافے کیلئے مالیاتی شفافیت اور دستاویزات کے نظام کو مضبوط بنانے پر زور دیا ہے جو ان کے اس عزم کی نشاندہی کرتا ہے کہ وزیرخزانہ ملک میں مالیاتی نظام کو انتہائی شفاف دیکھنا چاہتے ہیں وزیر خزانہ نے اپنی مسلسل محنت سے وزیراعظم اور ان کی معاشی ٹیم کی معاونت سے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرنے میں نہ صرف کامیابی حاصل کی بلکہ آئی ایم ایف حکام کو مطمئن بھی کیا اور ساتھ ہی انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا ہے کہ حکومت کی کوشش ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا یہ آخری پروگرام ہو’ وزیراعظم شہباز شریف بھی اس عزم کا اظہار کر چکے ہیں کہ ہماری کوشش ہو گی کہ ہمیں دوبارہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کیلئے رجوع نہ کرنا پڑے وزیرخزانہ نے وفاق میں مختلف اداروں کو دوسروں اداروں میں ضم کرنے اور ہزاروں خالی آسامیوں کو ختم کرنے خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کی نجکاری پروگرام کو تیز کرنے پر بھی زور دیا اس حوالے سے نجکاری وزیر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں پی آئی اے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے حوالے سے ضروری اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ متذکرہ اداروں کی پرائیویٹائزیشن کے بعد مجوزہ اداروں کی نجکاری کا کام بھی شروع کیا جائے گا خسارے میں چلنے والے درجنوں سرکاری اداروں کی پرائیویٹائزیشن سے حکومت کو جہاں ان اداروں کو ہر سال اربوں روپے کی گرانٹ دینے سے چھٹکارا حاصل ہو گا وہاں ان اداروں کی نجکاری سے حاصل شدہ رقم سے قومی خزانے کو مستحکم کرنے میں بھی مدد ملے گی جو یقینا معیشت کے حوالے سے بہتر اقدام ہو گا ایف بی آر میں افسران کی اکھاڑ پچھاڑ اور اصلاحات کے ساتھ ساتھ بُری ساکھ والے افسران کے گرد شکنجہ کسنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں کرپٹ افسران کی جانب سے صنعتکاروں’ تاجروں اور بزنس کمیونٹی کو ہراساں کرنے کا بھی حکومت نے نوٹس لیا ہے اور ایف بی آر کے نظام کو جدید سانچے میں ڈھالا جا رہا ہے جس کا واضح مقصد مالیاتی شفافیت اور دستاویزات کے نظام کو مضبوط بنانا ہے اس حوالے سے وزیراعظم وزیرخزانہ اور معاشی ٹیم اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر رہی ہے اور اس کے حوصلہ افزا نتائج برآمد ہوئے ہیں امید کی جا رہی ہے کہ موجودہ حکومت کی معیشت کو مستحکم کرنے کی کوششیں کامیابی سے ہمکنار ہوں گی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں