پانی کی قلت کا مسئلہ سنگین ہوگیا

اسلام آباد (بیوروچیف) پنجاب حکومت نے انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کو ایک خط میں کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے انڈس اسٹیم واٹر نقصانات اور کوٹری کے نیچے پانی کے اخراج نے پانی کی قلت کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ 21مارچ 2025کو ارسا کو لکھے گئے اپنے خط میں پنجاب محکمہ آبپاشی نے نشاندہی کی ہے کہ دریائے سندھ کے مرکزی دھارے میں غیر متوقع طور پر زیادہ پانی کے نقصانات اور کوٹری پر بڑھتے ہوئے بہاو نے موجودہ صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ایسی قلت پیدا ہوگئی ہے جو پانی کے نگران ادارے کی متوقع کمی سے بھی بڑھ گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے ارسا سے درخواست کی ہے کہ وہ انڈس پر ٹی پی (تونسہ-پنجند) لنک کو کھولے تاکہ تھل اور پنجند نہروں کو پانی فراہم کیا جا سکے۔ اس وقت پنجاب کو ٹی پی لنک، مظفرگڑھ اور ڈیرہ غازی خان نہروں سے پانی کا کوئی اخراج نہیں مل رہا۔ محکمہ آبپاشی پنجاب کے ڈائریکٹر ریگولیشن نے اپنے خط میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ 31مارچ 2025تک دریائے سندھ کے مرکزی دھارے میں حقیقی پانی کے نقصانات اور کوٹری ڈاون اسٹریم پر پانی کے اخراج نے اس کمی سے زیادہ قلت پیدا کی جو ارسا نے حساب لگائی تھی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ دریائے سندھ کے مرکزی دھارے میں حقیقی پانی کے نقصانات 1.20ایم اے ایف کے متوقع نقصان کے مقابلے میں بڑھ کر 1.60ایم اے ایف تک پہنچ گئے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں