پانی کے ضیاع کو روکنے کیلئے کمرشل صارفین کے ٹیرف بڑھانے کا حکم

لاہور (بیوروچیف) لاہور ہائیکورٹ نے کمرشل واٹر صارفین کا ٹیرف بڑھانے کاحکم دیتے ہوئے حکومت کو پانی کا ضیاع روکنے کی ہدایت کردی ۔جسٹس شاہد کریم نے سموگ تدارک سے متعلق درخواستوں پر سماعت کی۔ دوران سماعت واسا کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ واٹر میٹرز کیلئے ہم نے ایک شیڈول جاری کیا ہے ، ہم اکتوبر2025تک اس کام کو مکمل کر لیں گے ۔ ممبر جوڈیشل کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ یہ کمرشل واٹر میٹر 2500 روپے میں دے رہے ہیں، اتنے کم بل میں تو کمرشل صارفین زیادہ سے زیادہ پانی استعمال کر سکتے ہیں، عدالت نے حکم دیا کہ ان کے ٹیرف کو بڑھاکر15سے 20ہزار تک کیاجائے ، کار شو رومز بہت زیادہ پانی استعمال کر رہے ہیں انکا ٹیرف بڑھائیں۔عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ حکومت اور دیگر اداروں نے سموگ کے حوالے سے بہت عمدہ کام کیا ہے ، سب کو مبارک ہو ۔ عدالتی معاون نے کہا کہ فاریسٹ ڈیپارٹمنٹ نے مانگا منڈی کے قریب چھ سو ایکڑ جگہ روڈا کو دے رکھی ہے ، روڈا نے وہاں پر پلانٹیشن کرنا تھی، ابھی تک ایک درخت بھی نہیں لگایا۔ممبر واٹر کمیشن نے کہا کہ روڈا سے رپورٹ مانگی انہوں نے ابھی تک رپورٹ نہیں دی، روڈا والے دیہاتی علاقوں کے لوگوں کو کمرشلائزیشن کے نام پر کروڑوں روپے کے ٹیکس نوٹس بھیج رہے ہیں ، مناواں میں پارک کی جگہ پر قبضے ہو رہے ہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ اگلی پیشی میں اس پر جواب جمع کروائیں۔ ہائیکورٹ نے پانی کی سنگین کمی کے معاملے پر پی ڈی ایم اے کی کارکردگی پر اظہار ناراضگی کرتے ہوئے پی ڈی ایم اے سے خشک سالی کی رپورٹ پر جواب طلب کرلیا ، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ پانی کے تحفظ کیلئے حکومت کو اقدامات اور مستقل پالیسی بنانی چاہئے ۔ممبر ماحولیاتی کمیشن نے خشک سالی اور زیرزمین پانی کے حالات کے متعلق رپورٹ پڑھ کر سنائی، جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دئیے کہ پانی کا ضیاع روکنا چاہئے ، حکومت کواس پر پالیسی بنانی چاہئے ۔انہوں نے کہاکہ اگر پی ڈی ایم اے نے کچھ نہیں کرنا تو اسے بند کر دینا چاہئے ، کیونکہ ہر کام عدالت یا کمیشن کو ہی کرنا پڑ رہا ہے ،یہ ادارہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ کیلئے بنایا گیا ہے ، لیکن عملی طور پر اس کی کارکردگی صفر نظر آتی ہے ۔بچوں کیلئے سکول بسوں کا آغاز ایچی سن کالج سے کیا جائے ، ان کے پچاس فیصد بچے بسوں پر آنے چاہئیں، دس مرلہ میں بنے سکول جن کے طلبا کی تعداد سو سے کم ہے ، انہیں سکول بسوں سے استثنیٰ دیا جاسکتا ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں