83

پاور سیکٹر اور ایف بی آر کو کرپشن سے پاک کرنا ہو گا (اداریہ)

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ کرپشن ملک کی نائو ڈبو سکتی ہے ایف بی آر اور پاور سیکٹر کو کرپشن سے پاک کرنے میں کامیاب ہو گئے تو کشتی کنارے پر لگے گی بجلی سستی کرنا حکومت کا ایجنڈا ہے اس پر سیاست عوام کی توہین ہے انہوں نے کہا 3سو ڈیم بنانے کے نعرے لگائے گئے’ ایبسویوٹلی ناٹ کی طرح جذباتی فیصلے نہیں کرنے، آئی پی پیز کی کیپسٹی پے منٹ سمیت بجلی کے شعبہ کے مسائل کے حل کیلئے کوشاں ہیں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کیلئے ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر اور ایف بی آر کو کرپشن سے پاک کرنا ہو گا اگر یہ دونوں ادارے ٹھیک نہ ہوئے تو مشکلات پر قابو پانا دشوار ہو گا وزیراعظم نے کہا بجلی بحران پر قابو پانے کیلئے ہماری کوشش جاری ہیں نواز شریف کے دور میں بجلی کے منصوبے لگانے پر کام شروع کیا گیا اور حکومت نے ایل این جی کے چار پلانٹس لگائے جو کہ سستے ترین پلانٹس تھے اور ان پلانٹس سے 5ہزار میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے بجلی بحران کو حل کرنا ہماری اتحادی حکومت کا اہم ترین ایجنڈا ہے ہماری وزاروں کو مشترکہ طور پر عوام کو بریفنگ دی جانی چاہیے کہ اس بحران کے خاتمہ کیلئے حکومت نے کیا کیا اقدامات اٹھائے ہیں، وزیراعظم نے کہا ہماری سیاست عوامی خدمت ہے نواز شریف کے دور حکومت میں 20،20 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کو ہم نے ختم کیا 2015 میں سی پیک کے تحت سرمایہ کاری ہوئی سی پیک کے تحت بجلی کے منصوبے لگائے گئے ایک مخصوص جماعت کی KP میں 10سال سے حکومت ہے اس نے وہاں کتنے منصوبے لگائے، ڈیم بنائے، اور پن بجلی منصوبوں پر کتنی سرمایہ کاری کی؟ بلوچسان کے لیے شمسی توانائی کا 70ارب روپے سے منصوبہ شروع کیا جا رہا ہے جس میں 55ارب روپے وفاق اور باقی صوبہ دے گا 200یونٹ استعمال کرنے والوں کو رعایت دی گئی 500یونٹس استعمال کرنے والوں کو رعایت دینے کیلئے اقدامات زیرغور ہیں بجلی بلز کی ادائیگی سہولت کیلئے 50ارب روپے فراہم کیے گئے ہیں صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں ساڑھے آٹھ روپے فی یونٹ کمی کی گئی حکومتی آئی پی پیز پر تیزی سے کام کرے رہے ہیں جلد ان کا معاملہ حل کر لیا جائے گا بعض نجی آئی پی پیز اپنے قرض ادا کر چکے ہیں اور بعض نے قرضے ادا کرنے ہیں ہم عوام کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ان کے حل کیلئے کوشاں ہیں،، وزیراعظم شہباز شریف پاور سیکٹر اور ایف بی آر کو بدعنوانی سے پاک کرنے کا عزم لائق تحسین ہے خاص طور پر آئی پی پیز کے حوالے سے ان کا یہ کہنا کہ ان کا معاملہ جلد حل کر لی جائے گا، خدا کرے حکومت آئی پی پیز بارے معاملات کو جلد سے جلد حل کر لے کیونکہ اس قت ملک میں کیپسٹی چارجز بارے عوام میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور اس بے چینی کی آڑ مین سیاسی جماعتیں عوام کے جذبات کو مزید ابھار رہی ہیں تاکہ حکومت پر دبائو ڈالا جا سکے بلاشبہ اس وقت آئی ایم ایف کی ہدایت پر بنائے جانے والے وفاقی بجٹ کی وجہ سے ملک میں ٹیکسوں کی بھرمار ہے اور ہر شے کے نرخوں میں اضافہ ہو رہا ہے جو عام آدمی پر اثرات ڈال کر ان کی مشکلات میں اصافہ کر رہا ہے خاص طور پر بجلی کے نرخوں میں اضافہ کے ساتھ ساتھ مختلف قسم کے ٹیکسوں نے صنعتکاروں سمیت’ کاروباری افراد اور عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے جبکہ ایف بی آر نے کاروباری طبقہ کو طرح طرح سے تنگ کرنا شروع کر رکھا ہے وزیراعظم کی جانب سے پاور سیکٹر اور ایف بی آر میں کرپشن کے خاتمہ کیلئے اپنی ترجیحات سے وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم وفاقی کابینہ کے ارکان کو اس حوالے سے متحرک کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی وزارتوں میں بدعنوانی کا جائزہ لیکر اس پر قابو پانے کیلئے اقدامات کریں خاص طور پر پاور سیکٹر اور وزارت خزانہ کے ماتحت ادارہ ایف بی آر میں بدعنوانی کے خاتمہ کیلئے موثر اور فوری اقدامات کرنے پر زور دیا جا رہا ہے جس سے وزیراعظم کے عزم کا اظہار ہوتا ہے کہ وہ پاور سیکٹر اور ایف بی آر میں اصلاحات کے ذریعے دونوں اداروں کو عوامی خدمت کے ادارے بنانا چاہتے ہیں تاکہ دونوں ادارے ملک وقوم کی ترقی کیلئے اپنا مثبت کردار ادا کر سکیں وزیراعظم شہباز شریف ایک ہی اچھے منتظم ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ قومی ادارے کرپشن سے پاک اورعوام کی خدمت کرنے والے ادارے بن سکیں! اس سلسلے میں انہوں نے قدم اٹھایا ہے خدا کرے وہ سرکاری اداروں خاص طور پر ایف بی آر اور پاور سیکٹر کا قبلہ درست کرنے میں کامیاب ہو جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں