31

پاکستانی برآمدات پانچ سال میں 46ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان (اداریہ)

عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے حکومت پاکستان کے 60ارب روپے کے دعوئوں کے برعکس پاکستانی برآمدات میں 13ارب 79کروڑ کمی کا تخمینہ لگایا ہے حکومت نے 2030ء تک ملکی برآمدات 60ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے تاہم آئی ایم ایف نے برآمدات میں 60ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف کے برعکس پیشگوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ 5برسوں میں برآمدات 46ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہیں آئی ایم ایف کے مطابق اگلے سال پاکستان کی مجموعی برآمدات 36ارب 46کروڑ ڈالر تک جائیں گی، مالی سال 2008ء میں برآمدات 40ارب ڈالر اور 2029ء میں تقریباً 43ارب ڈالر رہیں گی عالمی مالیاتی فنڈ نے مجموعی درآمدات میں 2030ء تک 18ارب 70کروڑ اضافے کا تخمینہ لگایا ہے آئی ایم ایف کے مطابق رواں سال پاکستان کی درآمدات 64ارب ڈالر سے زائد رہیں گی جبکہ 2027ء میں درآمدات 66ارب 86کروڑ اور 2028ء میں 72ارب 90کروڑ ڈالر رہیں گی 2029ء میں 77ارب ڈالر 2030ء میں درآمدات بڑھ کر 82ارب 81کروڑ ڈالر ہو جائیں گی یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے پہلے 3سال میں برآمدات 60ارب ڈالر تک لیجانے کا ہدف مقرر کیا تھا تاہم بعد میں حکومت نے 3سال کے ہدف سے پیچھے ہٹتے ہوئے مدت 5سال مقرر کر دی تھی” حکومت کی طرف سے برآمدات میں اضافہ کیلئے آئندہ پانچ سال ہدف مقرر کیا ہے جس کے تحت پاکستانی برآمدات کو 60ارب ڈالر تک بڑھانے کی پلاننگ ہے تاہم اس حوالے سے عالمی مالیاتی فنڈ (IMF) نے کہا ہے کہ 2030ء تک پاکستانی برآمدات 46ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے۔ درج بالا سطور میں موجودہ مالی سال سے آئندہ 5مالی سالوں کے حوالے سے بھی آئی ایم ایف نے تخمینہ لگایا ہے جو ایک اندازہ ہے ممکن ہے کہ پاکستان اپنے ہدف 60ارب ڈالر کو برآمدات کے حوالے سے حاصل کرے! درآمدات اور تجارتی خسارے کے حوالے سے یہ خبر سامنے آئی ہے کہ نومبر کا جاری کھاتہ سرپلس رہا جبکہ نومبر میں جاری کھاتہ 10کروڑ فاضل رہا اکتوبر میں 29کروڑ ڈالر خسارہ پیش رہا تھا، رواں مالی سال جولائی تا نومبر جاری کھاتہ کو 81کروڑ 20لاکھ ڈالر کا خسارہ ہوا گزشتہ مالی سال کے اسی عرصہ میں جاری کھاتہ 50کروڑ 30لاکھ ڈالر سرپلس رہا تھا، رواں مالی سال اشیاء وخدمات کی تجارت کو درپیش خسارے میں نمایاں اضافہ ہوا رواں مالی سال جولائی تا نومبر تجارتی خسارہ 12.77ارب ڈالر رہا اشیاء وخدمات کی تجارت کا مجموعی خسارہ 14ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں اشیاء وخدمات کی تجارت کو 11ارب ڈالر کا خسارہ رہا،، موجودہ حکومت ملک کے تجارتی خسارے میں کمی سرمایہ کاری میں اضافہ کے مؤثر اقدامات پر یقین رکھتی ہے اور اس حوالے سے خلیجی ممالک سے سرمایہ کاری لانے میں کامیابی حاصل ہو رہی ہے متعدد ممالک سے تجارتی معاہدے ہو رہے ہیں حال ہی میں کویت نے بھی پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کا عندیہ دیا ہے وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک کے دورہ کویت کے دوران مختلف ملاقاتوں میں سرمایہ کاری’ توانائی اور تجارت میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا گیا کویتی قیادت نے پاکستان میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے کویتی وزیر خزانہ نے پاکستان میں سرمایہ کاری مزید بڑھانے میں گہری دلچسپی ظاہر کی ہے انہوں نے کہا کہ کویت انویسٹمنٹ تھارٹی پاکستان میں نئی سرمایہ کاری کیلئے تیار ہے علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مکمل سہولیات فراہم کر رہی ہے وزیر پٹرولیم نے کویت فنڈ برائے اقتصادی ترقی کے ڈائریکٹر جنرل ولید شملان احمد سے ملاقات میں پاکستان کے سماجی اقتصادی ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا انہوں نے کویت انویسٹمنٹ اتھارٹی کے ڈپٹی ایم ڈی سے بھی ملاقات کی جس میں پاکستان اور کویت کے درمیان ادارہ جاتی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق ہوا ہے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے پاکستانی برآمدات آئندہ پانچ سال میں 46ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کرنے کا مطلب ہے کہ پاکستان برآمدات کے حوالے سے صحیح سمت کی جانب گامزن ہے اور امید ہے کہ پاکستان 5برسوں کے دوران 60ارب ڈالر کی برآمدات کا ہدف پورا کر کے ایک بار پھر دنیا کو حیران کر دے گا اہم اس حوالے سے ضروری ہے کہ حکومت ٹیکسٹائل سمیت دیگر صنعتوں کیلئے مراعات کا اعلان کرے بجلی گیس کے نرخوں میں کمی کی جائے ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے اور ایف بی آر افسران کی جانب سے صنعتکاروں کو ہراساں کرنے سے روکا جائے برآمدکنندگان کے ریفنڈ جلد ادا کئے جائیں اور برآمدات بڑھانے کیلئے ان کی حوصلہ افزائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں