پاکستانی طلبہ کا کمال،AIوکیل تیار کرلیا

لاہور (بیوروچیف) یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے طلبہ نے پاکستان کا پہلا اے آئی وکیل تیارکر لیا۔ آرٹیفیشنل اینٹیلی جنس کاشاہکارجہاں پاکستانی قوانین کے حوالے سے مشورے دیگا وہاں کیس کی دستاویز بھی تیارکر یگا، چوبیس گھنٹے کام کرنیوالا جدید نظام قانونی شعبے میں انقلاب لے آیا۔ مصنوعی ذہانت پر مبنی ڈیجیٹل وکیل بطورلیگل اسسٹنٹ کام کریگا، وکلا ایپ میں تفصیل دے کر جامع اور مستندکیس تیار کرسکیں گے صرف ایک کلک پر، ایپ 1947 سے 2025 تک کے ملکی عدالتی فیصلوں اور قوانین پر مبنی درست قانونی جوابات فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ پرانے ڈیٹا بیس اور ریسرچ پراب وقت ضائع نہیں ہو گا، ہفتوں کا کام منٹوں میں مکمل ہوگا، عدالتوں میں کیس کے التوا جیسے مسائل میں بھی کمی آئیگی، ڈیجی لائرکے فائونڈرز کے مطابق اے آئی وکیل پاکستانی قانون کے مطابق درخواستیں، جوابات، نوٹسز اور معاہدات تیار کرتا ہے، اے آئی وکیل اس وقت دس ہزار سے زائد لا فرمزاور اداروں کے ساتھ کام کر رہا ہے۔ ماہرین کیمطابق یہ مقامی قوانین پرمبنی ٹیکنالوجی نوجوان وکلا کو بااختیار بنانے کے ساتھ ساتھ انصاف کی فراہمی،شفافیت اور عوامی اعتماد کومضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں