پاکستان اور افغانستان میں پولیس وائرس موجود،قومی ادارہ صحت

اسلام آباد (بیوروچیف) قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) میں پولیو کے خاتمے کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے تصدیق کی ہے کہ وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 (ڈبلیو پی وی 1) پہلے سے متاثرہ 17اضلاع سے جمع کیے گئے ماحولیاتی نمونوں میں پایا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق لیبارٹری حکام کے مطابق اسلام آباد، لسبیلہ، خضدار، کوئٹہ، قلعہ سیف اللہ، ڈی جی خان، بارکھان،سبی، ڈکی، مستونگ، لکی مروت، بہاولپور، گوجرانوالہ، نوشکی، کیچ، رحیم یار خان اور لاہور سے سیوریج کے نمونے لیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ کسی علاقے سے سیوریج کے پانی کا نمونہ اس بات کا تعین کرنے کے لیے بنیادی پیرامیٹر ہے کہ آیا پولیو کے قطرے پلانے کی مہم کامیابی سے جاری ہے یا نہیں۔واضح رہے کہ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے گزشتہ سال اپنی رپورٹ میں کہا تھا صرف پاکستان اور افغانستان دنیا کے وہ ممالک ہیں، جہاں پولیو وائرس اب تک موجود ہے، جب کہ یہ وائرس 5 سال سے کم عمر بچوں کو متاثر کرتا ہے اور کبھی کبھار انہیں زندگی بھر کے لیے معذور بنا دیتا ہے۔2024 میں پاکستان میں پولیو کے کیسز میں اضافہ دیکھا گیا، 2024میں ملک کے33اضلاع میں پولیو کے 70کیس ریکارڈ کیے گئے تھے، جب کہ 2023میں پولیو کے صرف 6، 2022 میں 20اور 2021میں صرف ایک کیس سامنے آیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں