اسلام آباد(بیوروچیف) ایرانی صدر مسعود پزشکیاں اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ون آن ون ملاقات ہوئی ہے۔وزیراعظم ہائوس میں ہونے والی ملاقات کے دوران پاک ایران باہمی تعلقات کو مزید مستحکم کرنے پر بات چیت ہوئی، جبکہ علاقائی سلامتی اور مشرق وسطی کی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ایرانی صدر نے ایران اسرائیل جنگ کے دوران پاکستان کی دو ٹوک حمایت پر پاکستانی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔قبل ازیں ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا وزیراعظم ہاس اسلام آباد پہنچنے پر وزیراعظم شہباز شریف نے پرتپاک استقبال کیا، دونوں رہنماں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا۔اس موقع پر دونوں ممالک کے ترانے بھی بجائے گئے، ایرانی صدر کے اعزاز میں مسلح افواج کی جانب سے گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا، مسعود پزشکیان نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔وزیراعظم نے معزز مہمان سے اپنی کابینہ کے ارکان کا تعارف کرایا جبکہ ایرانی صدر نے بھی وزیراعظم شہباز شریف سے اپنے وفد کے ارکان کی تعارف کرایا۔بعدازاں ایران کے صدر مسعود پزشکیاں نے وزیراعظم ہائوس میں پودا بھی لگایا۔دریں ثناء ۔اسلام آباد(بیوروچیف) پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارت 8ارب ڈالر تک پہنچنے کا ہدف مقرر کر لیا گیا۔وفاقی وزیر برائے تجارت جام کمال اور ایران کے وزیر صنعت و تجارت محمد آتابک کی اسلام آباد میں ملاقات ہوئی، جس میں دوطرفہ تجارت کو نئی جہت دینے پر اتفاق کیا گیا، باہمی سرحدی تعاون بڑھانے پر زور دیا گیا جبکہ مشترکہ اقتصادی کمیشن کے آئندہ اجلاس کو تیز کرنے پر اتفاق کیا گیاوفاقی وزیر جام کمال نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات میں تیزی لانے کا وقت آ گیا ہے، جغرافیائی قربت کو تجارتی فائدے میں بدلنا وقت کی ضرورت ہے، علاقائی تجارت وقت کی ضرورت ہے اور ہمسایہ ممالک کے ساتھ روابط اہم ہیں، تجارت صرف کاروبار نہیں بلکہ عوامی روابط کی علامت ہے۔ایرانی وزیر نے کہا کہ برادرانہ تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے تجارتی تعاون ناگزیر ہے، دونوں ممالک کے درمیان قریبی روابط خطے میں استحکام کا باعث بنیں گے۔



