41

پاکستان میں افغانستان سے دراندازی افسوسناک قرار (اداریہ)

سکیورٹی فورسز نے بنوں کینٹ پر فتنہ الخوارج کا دہشت گردی کا حملہ ناکام بنا دیا 6خوارج جہنم واصل کر دیئے گزشتہ روز افطار کے بعد دہشت گردوں نے بنوں کینٹ میں داخل ہونے کی کوشش کی دہشت گردوں نے بارود سے لدی 2گاڑیاں بنوں کینٹ کی دیوار سے ٹکرا دیں سکیورٹی فورسز کی کارروائی کے باعث گاڑیاں گھبراہٹ میں دیوار سے ٹکرائیں۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف انٹری پوائنٹس پر موجود سکیورٹی عملے نے 6دہشت گردوں کو جہنم رسید کر دیا باقی دہشتگردوں کو محصور کر لیا گیا ہے سکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی بارود سے بھری گاڑیوں کے دھماکے سے قریبی مسجد کو بھی نقصان پہنچا دھماکے سے قریبی گھروں کی چھتیں گرنے سے15شہری شہید اور 25زخمی ہوئے،، پاکستان میں افغانستان سے دراندازی اور افغان طالبات کی جانب سے سرحد پار سے اور پاکستان کے اندر مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات انتہائی افسوسناک ہیں افغان طالبان کو عبوری حکومت کہتی ہے کہ ہم اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے مگر افغان طالبان حکومت کی یہ بات اس کے وعدہ کے برعکس ہے پاکستان میں ٹی ٹی پی اور افغان طالبان بدامنی پھیلانے میں مصروف ہیں 28فروری کو سکیورٹی فورسز کی جانب سے غلام خان کلے میں 14دہشت گردوں کو ہلاک کیا گیا جن میں افغان دہشت گرد بھی شامل تھے ایک ہلاک افغان دہشت گردی کی شناخت مجیب الرحمان عرف منصور ولد مرزا خان کے نام سے ہوئی جو دندار گائوں ضلع چک میدان وردک افغانستان کا رہائشی تھا اس سے قبل 30جنوری کو بدرالدین ولد مولوی غلام محمد کو ڈیرہ اسماعیل خان میں دوران آپریشن ہلاک کیا گیا جو افغان فوج میں لیفٹیننٹ اور صوبہ باغدیس کے ڈپٹی گورنر کا بیٹا تھا، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں خودکش حملوں’ بم دھماکوں اور سنگین بدامنی کے واقعات طویل عرصہ سے پیش آ رہے ہیں بلوچستان کے ضلع قلات میں قومی شاہراہ پر خاتون بمبار کے سکیورٹی فورسز کے قافلے پر خودکش حملے میں ایک اہلکار شہید اور 4زخمی ہوئے جبکہ ایک گاڑی مکمل طور پر تباہ ہو گئی ضلع گوادر میں نامعلوم مسلح افراد نے حملہ کر کے متعدد گاڑیوں اور ایک پولیس چوکی کو نقصان پہنچایا چند روز قبل ضلع خضدار میں گھات لگائے افراد کی فائرنگ سے جے یو آئی بلوچستان کے 2راہنما جاں بحق ہو گئے تھے گزشتہ سال لسبیلہ میں سکیورٹی فورسز کے ایک کیمپ پر ایک خاتون کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا گزشتہ ماہ کے اوائل میں ضلع کے علاقہ منگجر میں عسکریت پسندوں کے حملے میں 18 سکیورٹی اہلکار شہید ہوئے تھے جوابی کارروائی میں 12دہشتگرد بھی مارے گئے تھے’ ہماری سکیورٹی فورسز دہشتگردی کیخلاف کارروائیاں کر رہی ہے اور ملک میں افراتفری پھیلانے والوں کو جہنم واصل کیا جا رہا ہے فتنہ الخوارج سے نمٹنے کیلئے فورسز پوری طرح الرٹ ہیں،’ پاکستان کا شروع دن سے یہی موقف رہا ہے کہ پاکستان میں ہونیوالی دہشت میں افغانستان براہ راست ملوث ہے اور اس کے کئی ٹھوس ثبوت موجود ہیں افغان طالبان کو شاید اس بات کا احساس نہیں کہ ان کی اکثریت پر پاکستان کے کتنے احسانات ہیں ایک طرف وہ اسلام کا نام لیتے ہیں اور دوسری جانب احسان فراموشی کی ایسی روایت اپنائے ہوئے ہیں جو اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے جو ملک پاکستان کی سلامتی کے درپے ہو پاکستان کو بھی اس کے ساتھ دشمنوں والا ہی سلوک کرنا چاہیے پاکستان کی سلامتی اور اس کی بقاء کے لیے جو بھی اقدامات کئے جا سکتے ہیں کئے جانے چاہئیں پاکستان میں عسکریت پسندوں کے خاتمے کیلئے بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے دہشتگردی کی لعنت کو جڑ سے اکھاڑنے کیلئے کوششیں اور ان کے سہولت کاروں’ فنانسرز کے خلاف بھی نتیجہ خیز کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں