پاکستان میں تیار موبائل فونز کی پیدوار میں اضافہ

اسلام آباد (بیوروچیف) کم قیمت والے اسمارٹ فونز کی زیادہ مانگ کے باعث دسمبر 2024میں مقامی طور پر تیار کردہ یا اسمبل شدہ موبائل فونز کی پیداوار میں 28فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔تاہم 2024-25 کے پہلے چھ ماہ کے دوران موبائل فونز کی درآمد میں بھی 50فیصد اضافہ ہوا، جو مارکیٹ کے سائز میں اضافے کی نشاندہی کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی ایک تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ پانچ سالہ (2023-2019)کی اوسط 67فیصد اور آٹھ سالہ (2023-2016)کی اوسط 47 فیصد کے مقابلے میں 2024میں اپنے موبائل فونز کی مجموعی طلب کا 95 فیصد مقامی مینوفیکچرنگ /اسمبلی کے ذریعے پورا کیا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق مقامی موبائل کمپنیوں نے دسمبر 2024میں موبائل کے 29لاکھ 50ہزار یونٹس تیار یا اسمبل کیے، جو کہ ماہانہ بنیادوں پر 28فیصد زیادہ ہے۔اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 25کی پہلی ششماہی میں موبائل فونز کی درآمد 50فیصد اضافے سے 5کروڑ 29لاکھ ڈالر ہوگئی جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 3کروڑ 52لاکھ ڈالر تھی۔مالی سال 25کے پہلے چھ ماہ میں ٹیلی کمیونیکیشن سیکٹر کا کل درآمدی بل 22.61فیصد بڑھ کر ایک ارب 3 کروڑ ڈالر ہوگیا جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں 84 کروڑ ڈالر تھا۔مالی سال 24 میں، ٹیلی کام سیکٹر کا کل درآمدی بل ایک ارب 89 کروڑ ڈالر تھا، جس میں 6 کروڑ 56 لاکھ ڈالر موبائل فونز کے لیے اور ایک ارب 83 کروڑ ڈالر دیگر آلات کے لیے خرچ کیے گئے۔ موبائل فون کا درآمدی بل مالی سال 24میں تقریبا چھ گنا بڑھ کر 6کروڑ 56 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا جو مالی سال 23 میں ایک کروڑ 16 لاکھ ڈالر تھا۔ تاہم طلب بہت زیادہ رہی اور مقامی طور پر تیار کردہ یونٹس نے مارکیٹ کی طلب کا 95 فیصد پورا کیا۔تحقیقی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ پورے 2024میں مقامی طور پر تیار کردہ/اسمبل شدہ فروخت کو 3کروڑ 13لاکھ 80ہزار یونٹس تک لے جاتا ہے، جو سال 2023کے مقابلے میں 47فیصد زیادہ ہے۔ 2024میں مقامی طور پر اسمبل ہونے والے موبائل فونز میں 59 فیصد (ایک کروڑ 86 لاکھ 40 ہزار یونٹ) اسمارٹ فونز اور باقی 41 فیصد (ایک کروڑ 27 لاکھ 40 ہزار یونٹ) 2جی فونز تھے۔2024 کے دوران مقامی طور پر اسمبل ہونے والے سرفہرست 10 برانڈز میں انفینکس (39لاکھ 80ہزار یونٹس)، آئی ٹیل (36لاکھ 40ہزار یونٹس)، ویگو ٹیل (33لاکھ 70ہزار یونٹس)، ٹیکنو (28 لاکھ 50 ہزار یونٹس)، ویوو (27 لاکھ 70 ہزار یونٹس)، شیامی (23 لاکھ 50 ہزار یونٹس)، ریئل می (17 لاکھ 60 ہزار یونٹس)، سام سنگ (15 لاکھ 10 ہزار یونٹس)، جی فائیو (14 لاکھ 40 ہزار یونٹس) اور نوکیا کے (13 لاکھ 60 ہزار یونٹس) شامل ہیں۔جنوری 2024 تک، ملک میں 18 کروڑ 89 لاکھ موبائل کنکشن تھے جو کل آبادی کا 77.8 فیصد تھے۔ پاکستان اس وقت 19 کروڑ 32 لاکھ موبائل فونز کے ساتھ دنیا میں ساتویں نمبر پر ہے۔موبائل فونز کی زیادہ تر مینوفیکچرنگ یا اسمبلنگ چینی کمپنیوں کی مدد سے کی جاتی ہے اور یہ شعبہ معیشت کے دیگر شعبوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ترقی کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں