پاکستان میں ذیابیطس کی شرح میں اضافہ تشویشناک قرار

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن (PSIM)کے زیرِ اہتمام، پرائمری کیئر ڈایبیٹیز ایسوسی ایشن (PCDA)اور لال پور ڈایبیٹیز فیڈریشن (LDF) کے تعاون سے ذیابیطس پاکستان کانفرنس کا انعقاد فیصل آباد میں کیا گیا۔ اس عظیم الشان علمی و تحقیقی تقریب میں ملک بھر کے معروف ماہرینِ طب، محققین اور معالجین نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز صبح 8:30 بجے ناشتہ سیشن سے ہوا جس کی صدارت پروفیسر عامر شوکت نے کی۔ ڈاکٹر اعجاز انور نے خیر مقدمی خطاب پیش کیا اور فیصل آباد چیپٹر کی کاوشوں اور ذیابیطس کی آگاہی میں PSIMکے کردار کو سراہا۔کانفرنس کے دوران مختلف ماہرین نے جدید موضوعات پر علمی گفتگو کی:پروفیسر زاہد یسین ہاشمی نے میٹابولک ایسوسی ایٹڈ فیٹی لیور ڈیزیز (MAFLD) اور میٹابولک ایسوسی ایٹڈ اسٹیٹو ہیپاٹائٹس (MASH) پر تفصیلی لیکچر دیا اور ریسمیٹیرون (Resmetirom) اور GLP-1 اینالاگز کے علاج میں کردار پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر سہیل انجم نے ذیابیطس کے قلبی و گردوی (Cardiorenal)فوائد اور جدید علاجی حکمتِ عملیوں پر گفتگو کی۔ڈاکٹر وازی مسطور نے ذیابیطس ریٹینوپیتھی کی تشخیص و علاج کے جدید پہلوئوں پر تفصیلی بات کی۔ڈاکٹر یوسف کمال نے ذیابیطس میں جنسی کمزوری (Erectile Dysfunction) کے مسئلے اور ٹیڈیلافل (Tadalafil)کے موثر کردار پر روشنی ڈالی۔پروفیسر ظفر چوہدری نے ایک منفرد خطاب میں علامہ اقبال کی شاعری، قرآن سے ان کی محبت اور نوجوان نسل کو اقبال کے پیغام پر عمل کرنے کی تلقین کی۔پروفیسر جاوید اکرم نے موٹاپے کے مضر اثرات پر آگاہی دیتے ہوئے ٹرزپیٹائیڈ (Tirzepatide) کے استعمال اور اس کے فوائد پر تفصیلی گفتگو کی۔ڈاکٹر صومیہ اکتدار نے اورل سیماگلوٹائیڈ (Oral Semaglutide) کے طبی فوائد اور ذیابیطس کے علاج میں اس کے کردار پر روشنی ڈالی۔تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ظفر علی چوہدری اور پروفیسر محمد عمر تھے جنہوں نے PSIM فیصل آباد چیپٹر کی محنت اور شاندار انتظامات کو سراہا۔کانفرنس کے مختلف سیشنز کی صدارت پروفیسر عامر حسین، ڈاکٹر بدر، ڈاکٹر مغیث اثر، پروفیسر زاہد یسین ہاشمی، پروفیسر عامر شوکت، اور پروفیسر ساجد عبیداللہ نے کی۔سیشنز کی نظامت ڈاکٹر ماہین، ڈاکٹر اویس فضل، ڈاکٹر عرفان رشید، اور ڈاکٹر محمد عرفان نے کی۔اختتامی سیشن میں چیف آرگنائزر ڈاکٹر احمد شہزاد نے لال پور ڈایبیٹیز فیڈریشن (LDF) کا تعارف پیش کیا اور تمام مقررین، مہمانوں اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اختتامی کلمات کہے۔کانفرنس کا اختتام PSIM کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس سے ہوا جس میں مستقبل کی سرگرمیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔—پاکستان میں ذیابیطس کی صورتحالپاکستان میں ذیابیطس کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ چکی ہے:بالغ آبادی کا تقریبا 30.8 فیصد ذیابیطس کا شکار ہے۔ہر سال لگ بھگ 2.3 لاکھ افراد ذیابیطس یا اس کی پیچیدگیوں کے باعث جاں بحق ہو جاتے ہیں۔ایک حالیہ تحقیق کے مطابق پاکستان میں 37.9 فیصد ذیابیطس مریضوں کو ایک سے زائد پیچیدگیوں کا سامنا ہے، جن میں دل، گردے، آنکھیں اور اعصاب کے امراض شامل ہیں۔—کانفرنس کا مقصداس کانفرنس کا مقصد ذیابیطس کے بڑھتے ہوئے پھیلا، پیچیدگیوں اور اموات کے خطرات کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا، عوام کو صحت مند طرزِ زندگی اپنانے کی ترغیب دینا اور معالجین کے درمیان جدید علاجی رجحانات کو فروغ دینا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں