پاکستان میں سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ گیا

اسلام آباد (بیوروچیف) نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سکیورٹی بورڈ نے سائبر حملوں کی نئی ایڈوائزری جاری کردی ہے۔نیشنل ٹیلی کام اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سکیورٹی بورڈ کی ایڈوائزری میں ہیکرز کا ذاتی معلومات چرانے کے لیے سائبر حملوں کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ایڈوائزری کے مطابق وی پی این اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس استعمال کرنیوالے صارفین کو سائبر حملوں کا خطرہ ہے۔ایڈوائزری کے مطابق سائبر حملوں کے ذریعے مشکوک کوڈ فیک تکنیک کا استعمال کرکے بھیجا جاتا ہے، سوشل میڈیا اور بینکنگ ویب سائٹس کے ذریعے ذاتی معلومات چرائی جاسکتی ہیں۔ایڈوائزری میں 16ایپلیکیشنز کو وقتی طور پر استعمال نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ ان ایپلیکیشنز کی جگہ متبادل آپشنز کے استعمال کی سفارش کی گئی ہے۔ایڈوائزری میں سفارش کی گئی ہے کہ محفوظ ایپلیکشنز اور ویب سائٹس استعمال کی جائیں، ایپلیکشنز انسٹال کرنے کے بعد ایپ کی موبائل کی لوکیشن تک رسائی محدود کی جائے۔ایڈوائزری میں ایپ کی میسجز تک رسائی کو محدود رکھنے کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ایڈوائزری میں روزانہ کی بنیاد پر ایپس اپ ڈیٹ اور لائسنس یافتہ اینٹی وائرس انسٹال کرنیکی سفارش کی گئی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں