84

پاکستان میں نرسز کا عالمی دن محض نعروں تک محدود

تحریر: میاں صغیر سانول ایڈووکیٹ
آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں نرسز کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے عالمی دن منایا جارہا ہے۔ فیصل آباد اور لاہور سمیت پنجاب بھر اور پورے ملک کے سرکاری و پرائیویٹ ہسپتالوں میں خدمات سرانجام دینے والی ہماری بہنیں جن کا شعبہ صحت میں کردار کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ مریض کی دیکھ بھال کیلئے نرس کا کردار ڈاکٹر سے کئی درجے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ ڈاکٹر مریض کے مرض کی تشخیص و علاج کیلئے خدمات سرانجام دیتے ہیں جبکہ نرس مریض کی اس حال میں بھی خدمت کرتی ہے جبکہ اس کے خونی رشتے بھی مرض کی وجہ سے ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔ بعض اوقات مریض کے وبائی مرض یا زخم کی صورت میں اس کے جسم سے اٹھنے والے تعفن کے نتیجے میں سگے رشتے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں لیکن نرس اس وقت بھی شفقت سے اس کی خدمت کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ آج بھی ہم ہسپتالوں میں چلے جائیں تو ہمیں سفید لباس میں ملبوس سینکڑوں ایسی بہنیں نظر آئیں گی جن کو دیکھ کر رتھ فا کی یاد تازہ ہوجاتی ہے۔ لیکن انہی خدائی خدمت گاروں کو ملنے والی سہولیات کا جائزہ لیا جائے تو حکومت ان کو مسلسل نظر انداز کرتی آرہی ہے۔ سفید لباس نرسوں کی پہچان بن چکا ہے لیکن اس سفید یونیفارم کے بیشتر مسائل کی وجہ سے نرسز کا دیرنہ مطالبہ تھا کہ یونیفارم کا رنگ تبدیل کیا جائے تو بالآخر رواں سال جنوری میں مطالبہ پورا کرتے ہوئے نیا ڈریس کوڈ متعارف کروادیا گیا اور اس ضمن میں یونیفارم رنگ تبدیلی کا باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا لیکن حسب روایت وہ حکمنامہ محض کاغذی کاروائی ثابت ہوا اور پانچ ماہ بعد بھی یونیفارم کو تبدیل نہیں کیا جا سکا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق نرسز ڈارک بلو یعنی گہرے نیلے رنگ کی شلوار قمیض اور نام پلیٹ سفید رنگ کا کوٹ اور نیلے رنگ کا اسکارف ودوپٹہ پہنیں گی لیکن ڈی جی نرسنگ کے دوہرے معیار کے نتیجے میں صرف لاہور میں ملتان میں نرسز کی یونیفارم تبدیل کی گئی ہے باقی پورے پنجاب میں سفید رنگ کا لباس ہی تاحال زیب تن کیا جارہا ہے۔ پنجاب بھر کی نرسز کا مطالبہ ہے کہ نرسز کے عالمی دن پر ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے خالی نعرے لگانے کی بجائے حکومت فی الفور یونیفارم تبدیلی کے مراسلے پر عملدرآمد کروائے اور دیگر بنیادی مطالبات بھی پورے کرتے ہوئے ان کو مکمل سہولیات و تحفظ فراہم کیا جائے۔ فیصل آباد سمیت پنجاب کے درجنوں سرکاری ہسپتالوں کی نرسز کے ہاسٹلز کی حالت زار ناقابل بیان اور ناقابل برداشت ہوچکی ہے جہاں پر بنیادی سہولیات نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ نرسز کے بچوں کیلئے ڈے کیئر سینٹرز نہیں ہیں۔ ان کیلئے پک اپ اینڈ ڈراپ کی کوئی سہولت نہیں ہے جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں اینٹی ویمن ہراسمنٹ اور اینٹی ویمن وائلنس ڈیسک وسینٹرز کا کوئی تصور ہی موجود نہیں ہے لیکن اس کے باوجود محض نعروں اور دعووں کی بنیاد پر ہر سال 12مئی کو نرسنگ ڈے منایا جاتا ہے اور چند ایک سیمینارز و ریلیاں منعقد کرکے تصویری سیشن کرکے میڈیا رپورٹنگ کروالی جاتی ہے لیکن جن کیلئے یہ مخصوص دن منایا جاتا ہے وہ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی اپنے بنیادی حقوق کیلئے فکرمند رہیں گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں