پاکستان میں ہر سال20ہزار سے زائد افراد ڈینگی سے متاثر ہوتے ہیں

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) پاکستان میں ہر سال 20ہزار سے زائد افراد ڈینگی سے متاثر ہوتے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر آنیوالے سالوںکے دوران ڈینگی کے مریضوں میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے اگر اس کے لئے مربوط حکمت عملی اور اقدامات نہ کئے گئے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین نے زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ انٹومالوجی کے زیراہتمام ”مچھر سے بچاؤں کے حوالے سے پیشرفت، ماضی کی حکمت عملی سے مستقبل کی اختراعات تک” کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کے دوران کیا۔سیمینار کی صدارت کرتے ہوئے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد سرور خاں نے کہا کہ ملک میں ویکٹر سے پھیلنے والی بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے لہٰذا ہمیں ویکٹروں کی آبادی کو کنٹرول کرنے اور ماحول کو بیماریاں پھیلانے والے جراثیم سے پاک کرنے کے لئے مربوط کاوشیں عمل میں لانا ہوں گی۔ انہوں نے عوام پر زور دیا کہ وہ مچھروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ماہرین کے تجویز کردہ سائنسی طریقوں پر عمل درآمد کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی سطح پر کلین اینڈ گرین پنجاب اور گرین پاکستان ایک نمایاں اقدام ہے جس سے نہ صرف صاف ستھرا ماحول یقینی بنایا جا سکے گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں سے بھی نبردآزما ہونے میں معاون ثابت ہو گا۔ شعبہ انٹومالوجی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر وسیم اکرم نے کہا کہ گزشتہ سال پنجاب میں آٹھ ہزار سے زائد افراد ڈینگی سے متاثر ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ڈینگی کی افزائش سے روک تھام کرنے کے لئے ماحول کو صاف ستھرا رکھنا ہو گا تاکہ عوام کو بیماریوں سے بچایا جا سکے۔ پبلک ہیلتھ اتھارٹی کے سی ای او اسفند یار نے کہا کہ ڈینگی پر قابو پانے کے لیے ممکنہ اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عظمت نے فیصل آباد میں ڈینگی سے نمٹنے کا روڈ میپ پیش کیا۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجی کو مربوط کرنے، مسلسل نگرانی اور طویل المدتی ڈینگی کنٹرول کی کوششوں میں عوامی شرکت کی اہمیت پر زور دیا۔ڈاکٹر شاہد مجید نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے نہ صرف بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ زراعت بھی متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوںکو مدنظر رکھتے ہوئے ماہرین کی سفارشات کو عوام تک پہنچانا ناگزیر ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں