پاکستان ٹیکنالوجی اور جدت پرمبنی مستقبل کیلئے پرعزم ہے

اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ آسیان پاکستان ٹیکنالوجی کوآپریشن فورم کا قیام عمل میں لایا جانا چاہیے، جس کے ذریعے ہر سال خصوصی اجلاس میں ٹیکنالوجی سے متعلق مشترکہ پراجیکٹس کی نشاندہی اور ان پر پیش رفت پر غور کیا جاسکے۔پاکستان ٹیکنالوجی اور جدت پر مبنی مستقبل کے لیے پرعزم ہے۔ آسیان پاکستان ٹیکنالوجی ایکسپو 2025 سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایسوسی ایشن آف ساؤتھ ایسٹ ایشیئن نیشنز کے ممبران کے درمیان ریسرچ میں تعاؤن ناگزیر ہے، ہمیں ریسرچ سے متعلق اپنی ترجیحات ابھرتے ہوئے شعبوں سے منسلک کرنی چاہئیں۔ مصنوعی ذہانت کے ذریعے ڈیویلپمنٹ، سمارٹ سیٹیز، زراعت، گرین ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل ہیلتھ کے شعبوں میں کام کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آسیان کے ممبر ممالک اور پاکستانی اداروں کے درمیان تعاؤن اور لیبارٹریز کا قیام اس سلسلے میں اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے، ہماری صنعتوں کی مل کر پراڈکٹس اور پروٹوٹائپس پیدا کرنے میں حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جس سے گلوبل ساؤتھ کی ضرورتیں پوری کی جاسکیں، ان میں کم قیمت طبی ڈائیگناسٹک کا نظام اور ایـگورننس وغیرہ شامل ہوسکتے ہیں۔انہوں نے پائیدار ترقی کے لیے ٹیکنالوجی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یقینی بنانا چاہیے کہ ٹیکنالوجی انسانوں اور کرہ ارض کے لیے مثبت کردار ادا کرے۔ پاکستان اور آسیان کاربن کا اخراج کم کرنے کی ٹیکنالوجی، سرکولر اکانومی ماڈل اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے نظام پر کام کرسکتے ہیں، ہمیں ٹیکنالوجی کا استعمال سماجی شراکت داری بڑھانے کے لیے کرنا چاہیے۔ا نہوں نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی اور جدت پر مبنی مستقبل کے لیے پرعزم ہے۔ ہمارا مقصد پاکستان میں نوجوانوں کو بااختیار بنانا، معیشت کا استحکام اور خطے میں بامعنی تعاؤن کو یقینی بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمیں علم ہے کہ ہم یہ سب کچھ الگ نہیں کرسکتے، اس لیے آسیان سے پارٹنرشپ اہم ہی نہیں بلکہ بنیادی چیز ہے۔ انہوں نے آسیان پاکستان ٹیکنالوجی کوآپریشن فورم کے قیام کی بھی تجویز دی جس کے ذریعے ہر سال خصوصی اجلاس میں ٹیکنالوجی سے متعلق مشترکہ پراجیکٹس کی نشاندہی اور ان پر پیش رفت پر غور کیا جاسکے۔#/s#

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں