38

پاکستان کا بجٹ 2025-26: ریلیف یا مزید دبائو؟

پاکستان کے مالی سال 2025-26کا بجٹ17.57ٹریلین روپے کے مجموعی حجم کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ حکومت کی کوشش ہے کہ ٹیکس وصولی کو بڑھا کر، اخراجات میں کفایت شعاری لا کر اور بجٹ خسارہ کم کر کے ملک کو معاشی استحکام کی راہ پر ڈالا جائے۔ اس مقصد کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے گئے ہیں جن کا براہ راست تعلق عام عوام سے ہے۔اگر بات کی جائے عوام کو دی جانے والی سہولیات کی تو بجٹ میں سب سے واضح ریلیف تنخواہ دار طبقے کو دیا گیا ہے۔ انکم ٹیکس کی شرحوں میں نمایاں کمی کی گئی ہے۔ سالانہ آمدنی 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے پر اب 2.5 فیصد ٹیکس ہوگا، جو پہلے 5 فیصد تھا۔ اسی طرح 12لاکھ سے 22لاکھ روپے تک 11فیصد اور 22لاکھ سے 32لاکھ روپے پر 23فیصد ٹیکس لاگو کیا گیا ہے۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے اور پنشنرز کے لیے 7فیصد اضافے کا اعلان بھی ہوا ہے۔ غریب طبقے کی معاونت کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقوم کو 592ارب سے بڑھا کر 716ارب روپے کر دیا گیا ہے، جس سے اندازا ایک کروڑ سے زائد خاندان مستفید ہوں گے۔ کسانوں کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں جن میں ایک ملین روپے تک بغیر ضمانت قرضہ، فصل اور صحت بیمہ کی سہولیات شامل ہیں۔تاہم اس بجٹ میں عوام پر کچھ نئے بوجھ بھی ڈالے گئے ہیں۔ فیول پر 2.5روپے فی لیٹر کاربن لیوی کے ساتھ موجودہ پیٹرولیم لیوی برقرار رکھی گئی ہے، جس سے مہنگائی کی نئی لہر آنے کا خدشہ ہے۔ شمسی توانائی کے فروغ کی بجائے، امپورٹڈ سولر پینلز پر 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے۔ آن لائن خریداری پر بھی بوجھ بڑھا ہے، جہاں کورئیر سروس کے ذریعے ای کامرس پر 18 فیصد جی ایس ٹی نافذ کیا گیا ہے۔ ڈیجیٹل آمدنی جیسے یوٹیوب یا فری لانسنگ پر 3.5 فیصد ایڈوانس ٹیکس لگایا گیا ہے۔ سود پر محصولات کی شرح بھی 15سے بڑھا کر 20فیصد کر دی گئی ہے۔ غیر فائلرز کو ہدف بناتے ہوئے بینک سے رقم نکالنے پر ٹیکس 0.6 فیصد سے بڑھا کر 1 فیصد کر دیا گیا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا حکومت اپنے خسارے کو کنٹرول کر سکے گی یا ایک بار پھر بین الاقوامی مالیاتی اداروں، خاص طور پر آئی ایم ایف، کی طرف رجوع کرنا پڑے گا۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ بجٹ خسارہ 5.9فیصد سے کم ہو کر 3.9فیصد GDPتک لایا جائے گا، مگر زمینی حقائق اس ہدف کو حاصل کرنے میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں بھی محصولات کے اہداف مکمل نہیں ہو سکے تھے، اور اگر اس بار بھی ایسا ہوا تو حکومت کو نئے قرضے لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔بجٹ میں کچھ ایسے شعبے بھی ہیں جہاں سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے۔ صحت اور تعلیم جیسے بنیادی شعبے بجٹ میں پس پشت ڈالے گئے ہیں۔ صحت کے شعبے پر صرف 1.4فیصد اور تعلیم پر 2.1فیصد GDPخرچ کیا جا رہا ہے، جو عالمی معیار سے کہیں کم ہے۔ عوامی ترقیاتی پروگرام کے لیے محض 1.06ٹریلین روپے رکھے گئے ہیں، جب کہ دفاع اور سود کی ادائیگی کے بعد یہ رقم برائے نام ہی رہ جاتی ہے۔ نوجوانوں کے لیے روزگار یا چھوٹے کاروبار (SMEs)کی حمایت کے لیے بھی کوئی واضح منصوبہ بندی سامنے نہیں آئی۔دوسری جانب کچھ شعبے ایسے ہیں جہاں بجٹ توقعات سے زیادہ رکھا گیا ہے۔ دفاعی بجٹ میں تقریبا 20 فیصد اضافہ کر کے اسے 12 ارب ڈالر تک پہنچا دیا گیا ہے، جو مجموعی GDP کا تقریبا 2.5 فیصد بنتا ہے۔ اسی طرح قرضوں پر سود کی ادائیگی اور پنشنز پر 8.21 ٹریلین روپے مختص کیے گئے ہیں، جو کہ مجموعی بجٹ کا تقریبا نصف بنتا ہے۔اگر عام شہری کی بات کی جائے تو اس بجٹ کے اثرات مخلوط نوعیت کے ہوں گے۔ ایک طرف انکم ٹیکس کی شرح میں کمی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے ریلیف نظر آتا ہے، تو دوسری طرف ایندھن، بجلی، کھانے پینے کی اشیا اور دیگر بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ موجود ہے، جو پہلے سے مہنگائی کے بوجھ تلے دبے عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔مگر سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہو گا جو نہ تو اتنا غریب ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا حصہ بنے، اور نہ ہی اتنا طاقتور یا مستحکم کہ کاروباری ٹیکس اور مہنگائی کا بوجھ آسانی سے اٹھا سکے۔ متوسط اور نچلے متوسط طبقے کے لاکھوں افراد جو چھوٹے دکاندار، فری لانسر، سروس فراہم کرنے والے یا تنخواہ دار نہیں بلکہ خود کفیل چھوٹے کاروبار چلاتے ہیں، اس بجٹ میں ان کے لیے کوئی واضح یا براہ راست ریلیف موجود نہیں۔ ان پر نہ صرف بجلی، فیول اور روزمرہ ضروریات کی مہنگائی کا دبائو بڑھے گا، بلکہ نان فائلر کی صورت میں ان کے بینک لین دین پر بھی ٹیکس زیادہ ہوگا۔ سوشل میڈیا، فری لانسنگ یا چھوٹے پیمانے پر درآمد و برآمد کرنے والے افراد پر بھی اضافی ٹیکس عائد کیے گئے ہیں۔ یہ طبقہ پہلے ہی مہنگائی، کرائے، تعلیم و صحت کی نجکاری، اور کاروباری لاگت میں اضافے سے دبائو میں ہے، اور اب اسے مزید ٹیکس بوجھ کا سامنا ہوگا۔مجموعی طور پر یہ بجٹ کسی حد تک عوام دوست ہونے کا دعوی کرتا ہے، مگر عملی طور پر متوسط اور خود روزگار طبقے کے لیے ریلیف محدود اور مالی دبائو شدید ہے۔ اگر حکومت اپنے محصولات کے اہداف حاصل نہ کر سکی، تو آنے والے مہینوں میں مزید قرضے اور سخت فیصلے عوام پر بوجھ بن سکتے ہیں۔ تعلیم، صحت اور روزگار جیسے شعبے جنہیں سب سے زیادہ ترجیح دی جانی چاہیے تھی، ان میں سرمایہ کاری کی کمی نہ صرف آج کی نسل بلکہ آنے والے مستقبل پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے۔ یہی وہ سوالات ہیں جن کا جواب وقت دے گا، مگر فی الحال یہ بجٹ عام آدمی کے لیے امید اور تشویش، دونوں کا مجموعہ ہے اور خاص طور پر اس طبقے کے لیے جو نہ غریب ہے، نہ بااثر، بلکہ اپنے وسائل سے جینے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں