پاکستان کا خلیجی جنگ میں سفارتی کردار (اداریہ)

ایران پر امریکہ اور اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملوں کے بعد خلیجی ممالک میں جو تشویش پیدا ہوئی وہ فطری تھی ان حملوں میں امریکی فوجی اڈوں کو جو نقصان پہنچا اس سے امریکہ اور اسرائیل کو دھچکا لگا کویت میں امریکہ کے اہم ترین فوجی مرکز پر حملہ کے بعد وہاں موجود طیاروں کی تباہی کے بعد واشنگٹن کو اس سوچ میں مبتلا کر دیا ہے کہ ایران کی پہنچ میں امریکی اڈے تک میزائل حملے کیسے کئے گئے کیونکہ اس اہم اڈے پر دفاعی سازوسامان کی بدولت وہاں پر حملہ کے امکانات نہایت کم تھے بہرحال ایران نے وہ کر دکھایا جس کی امریکہ اور اسرائیل کی توقع نہیں تھی امریکہ اور اسرائیل کو بھاری نقصان ہوا اس کی معیشت بھی ڈانواڈول ہو گئی کیونکہ اربوں کھربوں ڈالر کا اسلحہ اس جنگ میں استعمال ہو چکا ہے اور ابھی نجانے کتنے دن تک یہ جنگ چلے گی اور کتنا اسلحہ استعمال ہو گا ایران نے آیت اﷲ خامنہ ای کا جانشین مقرر کر دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی ایران نے امریکہ اور اسرائیل پر حملے تیز کر دیئے ہیں جبکہ ایران نے خلیجی ممالک میں حملوں کی معذرت کر لی ہے اور وعدہ کیا کہ دوبارہ حملے نہیں ہوں گے امریکہ نے علان کیا ہے کہ ایران کے نئے رہبر اعلیٰ کو بھی نشانہ بنایا جائے گا امریکہ اور اسرائیل نے کہا ہے کہ ہم ایسا صدر چاہتے ہیں جو ایران کو جنگ کی طرف نہ لے جائے ٹرمپ نے کہا کہ جنگ کے بعد ایران کا نقشہ ویسا نظر نہیں آئے گا جیسا اب ہے۔ مشرق وسطیٰ ای کبار پھر شدید اور خطرناک جنگی بحران کی لپیٹ میں آ چکا ہے خطے میں جاری یہ جنگ اب دسویں روز میں داخل ہو چکی ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے اثرات وسیع ہو رہے ہیں امریکہ اور اسرائیل جارحیت نے نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پوری دنیا کو شدید بے چینی اور تشویش میں مبتلا کر دیا ہے میزائل حملوں’ فضائی کارروائیوں اور عسکری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے واقعات نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا دیا ہے شہادتوں کی تعداد ایک ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد زیادہ بتائی جاتی ہے اعداد وشمار بتاتے ہیں کہ جنگ کا دائرہ کار صرف فوجی تنصیبات تک محدود نہیں رہا بلکہ عام شہری بھی اس تباہی کا نشانہ بن رہے ہیں اور دنیا کی معیشت بھی خطرے سے دوچار ہے پورے خطے میں خوف وہراس کی فضا ہے پاکستان پر بھی پٹرولیم بحران کے اثرات واضح ہیں عوام میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخ بڑھنے سے بے چینی پائی جاتی ہے پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے بیک وقت مختلف فریقوں سے بات چیت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، پاکستان سعودیہ اور ایران سے بھی براہ راست بات کر رہا ہے امریکہ کے ساتھ ہی سفارتی روابط رکھتا ہے اور خلیجی ممالک خصوصاً سعودی عرب اور دیگر ریاستوں کے ساتھ بھی اس کے قریبی تعلقات ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان ایسی پوزیشن میں ہے جہاں وہ مختلف فریقوں کو تحمل اور مذاکرات کی طرف مائل کرنے کی مزید کوشش کر سکتا ہے پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک اہم شخصیت ہمیشہ توازن اور اعتدال رہی ہے پاکستان نے ماضی میں بھی کوشش کی ہے کہ مسلم ممالک کے درمیان اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اسی پالیسی کے تحت پاکستان اس وقت بھی یہ کوشش کر رہا ہے کہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جائے اور جنگ کے دائرے کو مزید پھیلنے سے روکا جائے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان جنگ کے منفی اثرات کو کم کرنے کیلئے اہم کردار ادا کر رہا ہے بطور ایک ایٹمی اور بڑی اسلامی قوت پاکستان سے امید بھی یہی کی جاتی ہے کہ یہ خطے میں امن لانے کیلئے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے امن مذاکرات اور مصالحت کا پیغام آگے بڑھائے یہی وہ راستہ ہے جو اس خطے کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور مستقبل کو زیادہ محفوظ بنا سکتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں